Aesthetic view
encourage the new writer �
اسُ سر کو ہے دوام جو سولی شناس ہو
وہ جسم بوجھ ہے جو بغاوت نہ کر سکے
زندگی بہت مختصر ہے مگر
خواہشوں کی قطار لمبی ہے
م۔ح۔م
تم نے سیکھا ہے کہاں درد چھپا کر ہسنا
ہم نے سینے میں کئی درد چھپا رکھا ہے
اونچا مقصد ہو تو معیار بدل جاتے ہیں
ہم نے و لعصر زمانے کو جھکا رکھا ہے
حیدری عزم حسین ابن علی سا لہجہ
واللہ طاغوت کے سپنوں کو مٹا رکھا ہے
سجدہ ریز ہو تا ہے محبوب کے آگے عاشق
عشق نے پروانہ شمعِ میں جلا رکھا ہے
حوصلے والے نہیں ڈرتے کھبی لہروں سے
ہم نے ساحل پہ ہی کشتی کو جلا رکھا ہے
منتظرٓ ہجر منا لیگا خستحالی میں
اس نے ہر شخص سے وعدہ جو نبھا رکھا ہے
(مبشر حسین منتظرٓ)
سنو ہر بار رولانے والو
آکے خوابوں میں ستانے والو
زندگی کٹ گئ سزاؤں میں
خود مصیبت سے بچانے والو
راہ ک خاک بن گئے ہیں ہم
سورما آنکھوں میں لگانے والو
بڑی مشکل سے سانس چلتی ہے
چہرہ یادوں میں بٹھانے والو
منتظرٓ مدہوش ہے خیالوں میں
شراب آنسو کے پلانے والو
(مبشر حسین منتظرٓ)
30/08/2022
30/08/2022
Study is ultimate source of aesthetic pleasure
25/01/2022
Karakorum Tracking point
وفائیں ہم نبھاۓگے تم ہم کو توڑتے جانا
کبھی خوابوں میں آ ینگے دوبارہ دیکھ لینا تم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
1510