BalawaRistan
workrs
15/04/2026
ناترس استعماری فوج کے ہاتھوں خون میں لت پت مظلوم و محکوم پختون قوم اور بے رحم پاکستانی سیاسی ڈھانچے۔
آج فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی میں میرعلی کی سڑکوں اور گلیوں میں بےگناہ پختون زخمی حالت میں پڑے تھے، حتیٰ کہ انہیں ہسپتال تک لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔ زخمیوں میں پی ٹی ایم کارکن مرشد داوڑ بذاتِ خود اور پی ٹی ایم میرعلی عہدیدار مقتدر داوڑ کے والد صاحب بھی شامل ہیں۔
ٹانک میں مدرسے پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں 9 معصوم بچے زخمی ہوئے۔
جنوبی وزیرستان اعظم ورسک میں ڈاکٹر عبدالرحمن کے گھر پر مارٹر برسائے گئے، جس کے نتیجے میں دو عورتیں اور تین بچے شدید زخمی ہوگئے۔
سنٹرل کرم سنگڑوبئی، گلی شنگ، اور میدانی میں جھوٹے فوجی آپریشن کے بہانے فوج نے پختون عوام کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جس کے باعث وہ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
وادی تیراہ میں بھی اسی طرح کے جھوٹے آپریشن کی وجہ سے عام عوام علاقہ چھوڑنے اور نقل مکانی پر مجبور ہے۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت حکومتی سطح پر ان بچوں، عورتوں، خون میں لت پت زخمیوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی محض مذمت تک نہیں کرتی۔ تقریروں میں یہ دعویٰ بڑے جوش وخروش سے کرتے رہتے ہیں کہ کوئی آپریشن نہیں ہوگا، مگر عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف بھی نہیں بلکہ عام بےگناہ پختون کے گھروں پر حملے، بچوں اور عورتوں کو قتل کر کے فوجی آپریشن جاری ہے، اور پورے پختون بیلٹ میں خون اور آنسوؤں کا سماں ہے۔
صوبائی حکومت کے مشیروں کا کہنا ہے کہ انہیں ووٹ یہاں کے امن کے لیے نہیں ملا ہے یہ تو جس نے ووٹ دیے ہیں وہی وضاحت کر سکتے ہیں، مگر کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان واقعات کے خلاف حکومتی سطح پر دو جملوں کی ایک مذمتی بیان تک بھی نہیں دیا جا سکتا؟ یا وہ پشتونوں کو انسانی ہمدردی کے قابل ہی نہیں سمجھتے ہیں؟
پیپلز پارٹی کے گورنر خیبرپختونخوا ہر دوسرے دن بیان دیتے ہیں کہ فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ بہترین کام کر رہی ہے، جبکہ فوج روزانہ عام پختون بچوں اور عورتوں کا قتل عام کر رہی ہے۔
وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہے، جو پشتونوں پر ان فوجی مظالم کی نہ صرف مکمل حمایت کر رہی ہے بلکہ اسکے لئے ہر وقت راستہ بناتی رہتی ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ باقی اکثر سیاسی جماعتوں کو بھی جب جب حکومت کرنے کا موقع ملا، ہر بار انہوں نے ان جھوٹے، ظالم اور جابر فوجی آپریشنوں کا کھل کر ساتھ دیا، جن میں ہزاروں بےگناہ پشتون شہید ہوئے اور لاکھوں پشتونوں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔
پاکستانی فوج، جو کہ پنجاب کی استعماری فوج ہے اور دیگر محکوم قوموں پر ظلم جبر کر کے انکا استحصال کرتی ہے، پشتونوں کے سرزمین پر دھشتگرد اور دھشتگردی بنائی ، پشتونوں پر مسلسل ظلم و جبر کرتی آ رہی ہے، قتل عام کر رہی ہے، بزورِ طاقت پشتونوں کی زمینوں پر قبضہ اور پختونخوا کے معدنی وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے۔
جب پشتون عوام نے اپنے حقوق کے لیے اپنی قومی تحریک پی ٹی ایم بنائی اور فوج نے اس تحریک کی مخالفت شروع کی اس پر ظلم جبر کئے ، میڈیا ، عدالت اور پولیس بھی ان کے ساتھ ہوگئے تاکہ پشتون اپنی آواز بلند نہ کرسکے ، فوج کی حمایت کرنے والے سیاسی پارٹیوں نے بھی وقتاً فوقتاً پی ٹی ایم کے خلاف فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ مگر پھر بھی جب تک پی ٹی ایم گراونڈ پر موجود رہا، تب تک انتہائی تیز عوامی حرکت او عوامی پاسون کے سپیڈی سلسلے کی وجہ سے دہشت گردی اور فوجی آپریشن ممکن نہیں تھے۔
مگر جب پی ٹی ایم پر مکمل پابندی لگائی گئی، گاؤں سے لے کر مرکز تک تمام عہدیداران شیڈول فور میں محاصرہ کر دیے گئے، مرکزی اور صوبائی اکثریت اراکین کو جیل میں ڈال دیا گیا یا لاپتہ کر دیا گیا، پی ٹی ایم پر مکمل پابندی لگا کر اسکے خلاف عسکری کاروائیاں اور سیاسی لوگوں کے ذریعے منفی پروپیگنڈے شروع کر دیے ۔ اس کے بعد دہشت گردی اور آپریشن میں تیزی لانا ممکن ہوگیا۔ ایک طرف پشتون عوام پر ظلم و جبر، خواتین اور بچوں کا قتل عام، اور دوسری طرف ان کی تحریک پی ٹی ایم پر ہر سمت سے گھیرا تنگ کر لیا گیا تاکہ پشتونوں کا کوئی منظم عوامی ردعمل ممکن نہ رہے۔
پشتون قوم آج مشکل میں ہے، درد میں ہے، تکلیف میں ہے۔ ان کی ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کے خون اور آنسوؤں کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہم مشکلات میں ضرور ہیں، مگر ہم نے اپنی ہمت نہیں ہاری اور نہ ایسا کبھی ہوسکتا ہے، ہم نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ اس ظالم اور منظم دشمن کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت سطح کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس دن ہماری تیاری مکمل ہو گئی، اسی دن سے ان تمام مظالم کا ایک ایک کر کے حساب دیکھو گے۔
پشتونوں نوجوانوں سے امید کرتے ہیں کہ ہر قسم کے تفریق و اختلاف کے باوجود بھی ان مظالم کے خلاف مزاحمت کرینگے اور اگر کچھ بھی ممکن نہیں تھا تو کم از کم سوشل میڈیا پر تو اس کے خلاف بھرپور اور مسلسل کمپین شروع کر دے۔
پنجابی استعماری جرنیلوں کے ماتحت چاروں صوبے، وفاق، عدالتیں اور مقتدر پارٹیاں کیسے ایک جیسے ہیں؟ اس تحریر میں وہ تمام ثبوت اور حقائق موجود ہیں جو موجودہ حال میں آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو۔
پختونخوا حکومت کے 12 نومبر 2025 امن جرگے میں اُنکے دعوت پر شریک اُنکے مہمان ہماری وفد آج تک قید و بند ہے اور اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ سکی۔
خیبر پختونخوا ہنگو روڈ، کوہاٹ کاغذی چیک پوسٹ کے قریب، معروف سماجی شخصیت اور اورکزئی مومنٹ کے سربراہ نجیب اورکزئی عرف ’’مجبور پختون‘‘ کو ریاستی اداروں نے اغوا کیا، اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
خیبر پختونخوا ضلع خیبر سے ایک انتہائی عوام دوست، ملتپال عالم دین اور پی ٹی ایم کے کارکن مولانا نعمت اللہ صاحب کو پولیس اور ایف سی نے اغوا کیا، اور تاحال لاپتہ ہیں۔
خیبر پختونخوا ضلع چارسدہ سے مزدور کسان پارٹی کے سربراہ اور معروف سماجی رہنما سالار فیاض علی خان کو خیبر پختونخوا پولیس نے گرفتار کر کے قید کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا باجوڑ سے اے این پی ضلعی عہدیدار عبید سلارزئی کو بھی خیبر پختونخوا پولیس نے گرفتار کر کے ناحق قید میں ڈال دیا ہے۔
ضلع اورکزئی سے تین دن پہلے صرف احتجاج کرنے پر عبدالسعید، اسامہ اور مراد خان کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا
سندھ
حاجی عبدالصمد اور علی وزیر ایک سال سے زائد عرصے سے سندھ کی مختلف جیلوں میں انتہائی جھوٹے لیول کے ایف آئی آرز کے تحت قید و بند اور تکالیف کی زندگی گزار رہے ہیں۔
کراچی میں پی ٹی ایم سندھ میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا رویداللہ صاحب کو چند دن پہلے سندھ پولیس نے لاپتہ کیا، اور ایک ہفتہ بعد جیل میں ڈال دیا۔
بلوچستان
بلوچستان کی جیلوں میں ماہ رنگ بلوچ سمیت BYC کے دیگر پرامن کارکن آج بھی قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں، ائے روز کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں
پنجاب
پنجاب کی جیلوں میں بے شمار افغان اور تحریک انصاف کے کارکن و لیڈرشپ (جن سے پنجابی جرنیل سیاسی کھینچا تانی میں ناراض ہیں) قید و بند کی سزا بھگت رہے ہیں
اسلام آباد
اسلام آباد میں پی ٹی ایم کارکُن ولی خان مہمند کو سوشل میڈیا پر پشتونوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرم میں کئی مہینوں سے قید و بند اور تکالیف میں رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کو ہر روز جھوٹے ایف آئی آرز اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جب پیپلز پارٹی کی قیادت سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی صوبائی حکومت کے تحت حاجی عبدالصمد، علی وزیر، مولانا رویداللہ اور دیگر سیاسی قیدی انتہائی جھوٹے مقدمات میں بےگناہ قید و بند اور تکالیف کیوں برداشت کر رہے ہیں؟
تو وہ کہتے ہیں:
“یہ ہم نہیں کر رہے، آپ کو خود پتہ ہے کون کر رہا ہے۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہمارے اپنے رہنما بھی جیلیں کاٹ رہے ہیں۔”
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے جب ان کی حکومت میں ہونے والی زیادتیوں، جبر اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا پوچھا جائے تو وہ بھی لفظ بہ لفظ وہی جواب دیتے ہیں جو سندھ حکومت دیتی ہے۔
بلوچستان اور پنجاب کی حکومتوں کا جواب بھی تقریباً وہی ہوتا ہے، بس لہجہ کچھ زیادہ "فوجی" ہوتا ہے کہ:
“ہم نے تو کچھ نہیں کیا، یہ سب عدالتوں کے فیصلے ہیں۔ ہر شہری کو عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو مسئلہ ہے تو عدالت جائے۔”
ہر صوبے میں حکومتی پارٹی کے کارکنوں کو کچھ نا کچھ تحفظ اور قیادت کو کچھ نہ کچھ مراعات ضرور ملتی ہیں، مگر جمہور کی آواز کے لیے ہر صوبے اور وفاق میں جبر، مشکلات، پابندیاں اور قید و بند کے یکساں حالات ہیں۔
اور اس وحشت کے حوالے سے ہر برسرِ اقتدار سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی تقاریر میں دعووں اور بھڑکوں کے انداز اور الفاظ مختلف تو ہوسکتے ہیں، مگر کیا عمل میں کسی بھی صوبائی حکومت یا وفاق کے ان عمال میں آپکو کوئی فرق نظر آرہا ہے۔؟
پنجابی جرنیل نسلی تعصب کی بنیاد پر پشتون، بلوچ اور دیگر محکوم اقوام کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔ انہی جرنیلوں کے پیدا کردہ پراکسی گروہوں اور حالات کی وجہ سے پشتون ہر روز قتل ہو رہے ہیں اور برباد ہو رہے ہیں۔ انہی گروہوں نے وانہ میں صحافی معراج خالد کے گھر کو مسمار کر دی، پنجابی جرنیل، فوج اور ان کے چند ہزار روپے ماہانہ پر چند پختون پیٹی بندوں کے ہاتھوں ڈرون اور مارٹر سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اور ان کے لیے آواز حق بلند کرنے والوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔
سیاسی لوگ الیکشن مہم میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ “ہم یہ کریں گے، ہم وہ کریں گے”، اور اپنے ساتھ “نہ ڈرنے والے، نہ جھکنے والے، نہ بکنے والے” لیکھتے ہیں۔
لیکن جب اقتدار مل جاتا ہے تو وہ سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔
امن کے ہر معاملے پر وہی ڈرا ہوا، جھکا ہوا اور بکا ہوا رویہ اختیار کرتے ہیں اور ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ:
“ہم کچھ نہیں کر سکتے۔”
اور یوں یہ تمام لوگ پنجابی استعماری نظام کے تحت اپنی قوم کو خاموش رکھنے کے لیے نام نہاد قانون، آئین اور ’’احترام‘‘ کا درس دیتے رہتے ہیں۔
اگر پنجابی استعماری جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی جھال میں پنسا کر پشتون بلوچ یا دیگر محکوم قوموں کے حقیقی رہنماؤں کو خاموش کرینگے تو یہ انکی بہت بڑی بھول ہے، مزاحمت جاری رہےگا، البتہ باتوں میں مختلف مگر عمل میں ایک جیسے پارلمانی پارٹیوں کی زمہ داری یہ نہیں ہے کہ صرف یہ کہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں بلکہ عوام کی خاطر مزاحمت کرنا ہے جو ایک فیصد بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
محکوم قوموں کے درد و تکالیف کی حل بڑے بڑے کرسیوں یا ریاستی دفتروں میں موجود نہیں ہے بلکہ محکوم قوموں کے قومی مزاحمتی انقلاب سے ممکن ہے۔
Comrade manzoor Ahmad pashteen
20/05/2025
Dollari foj nay
پاکستانی فوج نے اپنے روزمرہ معمول کے مطابق آج ایک بار پھر پختونخوا کے علاقے میرعلی میں عام بے گناہ پختونوں پر ڈرون سے بم گرائے، جس کے نتیجے میں چار کم عمر بچے شہید، جبکہ دو خواتین اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ چند مہینوں میں پختون قوم کے اندر موجود شانہ بشانہ بااثر افراد( غٹان) نے پنجابی جرنیلوں کو عملاً یہ یقین دلایا کہ "ٹھیک ہے، ہم کبھی کبھار محکوم و مظلوم پختونوں کے ساتھ کھڑے ہونگے، مگر عین مشکل حال میں پھر عملاً تمہارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے چاہے تم نے پختونوں پر بے انتہاء ظلم کیوں نہ کیا ہو، اس مخلوق نے ان جرنیلوں کو یہ یقین بھی عملاً دلایا کہ اگر پختون قوم تمہارے مظالم کے خلاف کوئی بڑا اتحاد قائم کرنے لگیں، تو ہم اس اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرینگے اور اس اتحاد کو مختلف طریقوں اور پروپیگنڈو کے ذریعے بننے سے پہلے ختم کرینگے۔
اب انہی یقین دہانیوں کے بعد، ظالم پنجابی جرنیلوں نے مزید ظلم، جبر اور بربریت کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میڈیا پر بھی کوئی خبر نہیں آئے گی اور پختونوں کے "غٹان" بھی عین وقت پر ہمارے "شانہ بشانہ" کھڑے ہوں گے۔ چنانچہ ان مظالم کی کوئی خبر تک سامنے نہیں آئے گی۔
ان کا خیال ہے کہ پی ٹی ایم پر پابندیاں لگا کر، انہیں جیلوں میں بند کر کے، شیڈول فور کے ذریعے ان کی نقل و حرکت محدود کر کے، ان کے مشران اور نوجوانوں کو شہید اور زخمی کر کے، ظلم و جبر سے اس تحریک کو خاموش کر دیں گے تاکہ مظلوم پختونوں کی کوئی نمائندگی باقی نہ رہے۔
مگر سن لو: واللہ! تمہاری یہ ناپاک خواہش کبھی پوری نہیں ہونے دی جائے گی۔ پی ٹی ایم بھی رہے گی اور تم سے اپنے قوم اور وطن پر ہونے والے مظالم کا حساب بھی لے گی۔
یہ ممکن ہے کہ مسلسل ظلم اور بربریت کے بعد پی ٹی ایم وقتی طور پر کسی بڑے عمل کا عامل نہ ہو، مگر یہ ممکن نہیں کہ پی ٹی ایم ہمیشہ کے لیے صرف چھوٹے احتجاجوں یا بیانات تک محدود رہے۔
آنے والا قریب وقت ثابت کرے گا کہ اپنی قوم کے دفاع اور معصوم پختونوں پر ہونے والے ظلم و جبر کا حساب لینے کے لیے پی ٹی ایم کس حد تک عمل کرتی ہے۔
پختون قوم اور ان کی سرزمین پر ہونے والے ظلم، جبر اور بربریت کو کوئی بھی باشعور پختون کبھی نہیں بھولے گا۔
شمالی وزیرستان کے پی ٹی ایم کوآرڈینیٹر اور دیگر ذمہ داران میرعلی پہنچ چکے ہیں، اور اس واقعے پر خاموش رہنے کا کوئی امکان نہیں۔
ہزار مشکلات اور محدودیتوں کے باوجود، آج بھی میرعلی میں پی ٹی ایم کے مشران اپنے مظلوم قوم کے ساتھ وہاں عملاً میدان میں کھڑے ہیں۔
Mashr manzoor pashteen
10/11/2024
پاکستان کے معروف صحافی و ناول نگار محمد حنیف لکھتے ہیں "اگر آپ پڑھے لکھے نوجوان بلوچ ہیں تو سمجھ جائیں آپ کی اوسط عمر دیگر اسی قسم کے پاکستانیوں سے آدھی ہوچکی ہے" ـ نوجوان بلوچ پولیٹیکل سائنٹسٹ ساجد حسین ایک جگہ لکھتے ہیں "ہم بلوچوں کی وہ نسل ہیں جو طبعی موت کا حق کھو چکے ہیں" ـ
ساجد حسین طبعی موت کا حق پانے کے لئے سویڈن ہجرت کر گئے مگر یہ حق وہ وہاں بھی نہ پاسکے بالآخر لاش بن کر ہی لوٹے ـ
بلوچستان میں جبری گمشدگی کا آغاز یوں تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سردار عطااللہ مینگل کے فرزند اسد مینگل کی جبری گمشدگی سے ہوا لیکن اس کو باقاعدہ ہتھیار کی صورت پرویز مشرف کے دور میں استعمال کیا گیا ـ آصف علی زرداری کے دور میں ایک بنیادی تبدیلی یہ آئی کہ جبری گمشدگان کی مسلسل مسخ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا جو نواز شریف دور کے آخر تک برقرار رہا ـ نواز شریف کے دور میں اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں ـ عمران خان کے دور میں مسخ لاشوں کی برآمدگی پر عالمی اداروں کی تنقید کے بعد ایک نئی تبدیلی سامنے آئی ـ اب جبری گمشدگان سی ٹی ڈی یا ایف سی کے ساتھ مقابلے میں دہشت گرد کا نام پا کر لاش بننے لگے ـ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ـ
اس نئی پالیسی کے خوفناک پہلو یہ ہیں کہ ایک تو اس کے ذریعے بیک وقت دس دس جبری گمشدگان قتل کر دیے جاتے ہیں جو پہلے (زرداری و نواز دور) دو یا تین ہوتے تھے ـ دوسرا یہ کہ چوں کہ ان افراد کو دہشت گرد قرار دے کر جعلی مقابلوں میں مارا جاتا ہے اس لئے پاکستانی میڈیا بھی "مثبت" رپورٹنگ کرکے انہیں عسکریت پسند کے طور پر پیش کرتی ہے ـ نتیجہ یہ انسانی حقوق کے تمام ادارے کنفیوز ہوجاتے ہیں ـ
عمران خان حکومت کے دور کا ایک نیا پہلو جلاوطن بلوچوں کا قتل ہے ـ سب سے زیادہ قتل کے واقعات افغانستان میں رپورٹ ہوئے، اس کے بعد ایران کا نمبر آتا ہے ـ جلاوطن بلوچوں کے قتال کو اس وقت زیادہ توجہ ملی جب معروف بلوچ صحافی و ادیب ساجد حسین سویڈن میں جبری گمشدگی کے بعد مردہ حالت میں بازیاب ہوئے اور اس کے چند ہفتوں بعد کینیڈا میں بلوچ قومی تحریک کی سرکردہ رہنما بانک کریمہ بلوچ پراسرار موت کا شکار ہوئیں ـ
جبری گمشدگی بلوچ سماج میں نوعی تبدیلیوں کا محرک بھی ثابت ہوئی ہے ـ اس ہتھیار نے بلوچ سماجی و سیاسی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں ـ بلوچ سیاست اور ادب کی ساخت اور لہجے میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں ـ سیاسی اقدار و ثقافت نے اپنی شکل بدل دی ہے ـ اس کا اہم ترین پہلو ایک قدامت پرست مردانہ سماج میں مزاحمتی سیاسی منظر نامے پر خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی آمد ہے ـ دوسری جانب بلوچستان کی پارلیمانی سیاست مکمل طور پر پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے نمک خواروں کے ہاتھ جاچکی ہے جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے ـ بلوچستان اسمبلی آج ایک بے وقعت ادارہ بن چکا ہے ـ
بلوچستان اسمبلی گئے وقتوں میں نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل، نوابزادہ بالاچ مری اور کچکول ایڈوکیٹ جیسے عوامی نمائندوں پر مشتمل تھا ـ کچھ نہیں تو کم از کم وفاق کے ساتھ کھینچا تانی کرکے مسائل زدہ بلوچستان کے لئے وسائل کے چند قطرے لے ہی آتے تھے ـ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے ـ
پارلیمانی سیاست میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کسی حد تک عوامی نمائندگی کا بھرم رکھتے تھے ـ ڈاکٹر مالک بلوچ کی وزارتِ اعلی کے دوران جبری گمشدگی میں سو فیصد اضافہ، مسخ لاشوں کی مسلسل برآمدگی، اجتماعی قبروں کی دریافت، کرپشن اسکینڈلز ، اور ڈاکٹر مالک بلوچ کے منحرف رویے کے باعث نیشنل پارٹی کی عوامی مقبولیت گھٹ چکی ہے ـ پارٹی کے دوسرے اہم رہنما حاصل بزنجو کی دلچسپی نواز لیگ کو "انصاف" دلانے میں رہی ـ بی این پی تاحال ایک امید تو ہے لیکن اپنے کنفیوز موقف اور سردار اختر مینگل کی عدم فعالیت نے اس پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ـ
جبری گمشدگی کسی مخصوص سماجی طبقے، علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں ہے ـ یہ بلوچ اجتماعی زندگی کا حصہ بن چکا ہے ـ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بعض دور دراز خطوں کے جبری گمشدگان کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے ـ جیسے چند ہفتوں قبل شاہ زین بگٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ـ مزکورہ ویڈیو میں بعض بگٹی بزرگ شاہ زین سے فریاد کر رہے ہیں کہ ہمارے گاؤں کے آدھے سے زائد نوجوان لاپتہ ہیں خدا کے لئے انہیں بازیاب کرائیں ـ پاکستان کو قدرتی گیس کی بلا تعطل ترسیل اور نواب بگٹی کی مزاحمت کے باعث ڈیرہ بگٹی ایک ممنوعہ خطہ ہے ـ وہاں کے حالات اور بگٹیوں کی زندگی کے نشیب و فراز پاکستانی میڈیا دور بلوچ میڈیا کا بھی حصہ نہیں بن پاتے ـ یہی حال کوہستان مری (کوہلو و کاہان) کا ہے ـ حکومتِ پاکستان کا بھونڈا مذاق دیکھئے، عمران خان نے بلوچ مسئلے کے حل کا ٹاسک اس شاہ زین بگٹی کو دے رکھا ہے جو اپنے آبائی علاقے کے مسائل حل کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا ـ
جبری گمشدگی کے سب سے بڑے متاثرین بہرکیف طلبا ہی ہیں ـ طلبا رہنما ذاکر مجید بلوچ، زاہد بلوچ اور شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی پر تو اتنے سال چڑھ چکے ہیں کہ بعض لوگوں نے بازیابی کی امید ہی چھوڑ دی ہے ـ ذاکر مجید کے بعد طلبا کی جبری گمشدگی میں بدترین اضافہ دیکھا گیا ـ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ـ گزشتہ ہفتے ہی چار طلبا بلوچستان یونیورسٹی سے حراست میں لے کر لاپتہ کئے گئے ہیں ـ
ساتھی طلبا کی بازیابی کے لئے اس وقت بلوچستان یونیورسٹی کے طلبا احتجاج کر رہے ہیں ـ وہ کلاسز اور امتحانات کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر نکل چکے ہیں ـ
بلوچستان میں تعلیم کبھی بھی پاکستانی حکومتوں کا مسئلہ نہیں رہا ـ طلبا کلاسز کا بائیکاٹ کیا سرے سے پڑھنا ہی چھوڑ دیں تب بھی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگے ـ پاکستان کے نام نہاد آزاد میڈیا کو بھی بلوچستان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ـ نام نہاد آزاد عدلیہ، جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں اور پاکستان کے غم میں گھلتے دانش وروں سمیت کسی بھی پاکستانی ادارے کے لئے بلوچستان اہم نہیں ہے ـ کل کا مرتا آج مرجائے سانوں کی والا معاملہ ہے ـ
ایسے میں طلبا کو سوچنا چاہیے کہ کلاسز کا بائیکاٹ کرکے وہ ایسا کیا حاصل کر پائیں گے جو ماما قدیر بلوچ طویل لانگ مارچ کا عالمی ریکارڈ بنا کر بھی حاصل نہ کرسکے ـ
میری نگاہ میں جبری گمشدگی کا مستقبل قریب میں کوئی حل نہیں ہے ـ یہ عذاب مزید کئی سالوں تک بلوچ کو سہنا پڑے گا ـ گزشتہ دنوں ارجنٹینا کے مایہ ناز فٹ بال کھلاڑی میراڈونا کی زندگی پر مبنی سیریز "Maradona: Blessed Dream" نظر سے گزری ـ سیریز میں اس دور کے سیاسی حالات کا بھی مختصر جائزہ لیا گیا ہے جس میں سرِ فہرست جبری گمشدگی کا مسئلہ تھا ـ ارجنٹینا میں جاری جبری گمشدگی پر عالمی اداروں کا ضمیر سویا رہتا ہے ـ بلوچ سیاسی جماعتوں کی بیچارگی پر ترس آتا ہے جب وہ ہر لمبے بیان کے آخر میں "عالمی ادارے نوٹس لیں" کا بینر ٹانگ دیتی ہیں ـ عالمی اداروں کے ضمیر نہیں مادی مفادات ہوتے ہیں ـ مفاد ہو تو جمال خاشقجی "مقتول" بن جاتا ہے نہ ہو تو ساجد حسین "حادثاتی موت" قرار پاتا ہے ـ ارجنٹینا میں جبری گمشدگی اس وقت تک برقرار رہا جب تک غیر عوامی آمرانہ سیاسی نظام مضبوط رہا ـ
بلوچ مسئلہ بھی جب تک موجود ہے جبری گمشدگی ناقابلِ حل ہے ـ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی شکست کو ایک دہائی گزر چکی ہے لیکن تامل قومی سوال زندہ ہے سو تامل نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ بھی برقرار ہے ـ عالمی ضمیر وہاں بھی فی الحال سورہا ہے ـ
یہ پاکستانی کمیٹیاں، کمیشن، سرکاری بیانات، عدالتوں کے نوٹسز وغیرہ محض دھوکہ ہیں ـ بلوچ کو اپنی راہیں جبری گمشدگی کے درمیان سے ہی نکالنی ہوں گی ـ
ذولفقار ذلفی
Click here to claim your Sponsored Listing.