Bol Gilgit Media Network
اس پیج کو بنانے کا مقصد گلگت بلتستان کی اندرونی صورتحال مسائل، عمومی علم، خبریں، سماجی مسائل
02/09/2026
"زندگی بہت مختصر ہے اور ہر شخص اپنی جگہ کسی نہ کسی جنگ یا الجھن میں مصروف ہے۔اگر ہم کسی کے سفر کو آسان نہیں بنا سکتے تو کم از کم اپنے تجسس اور تبصروں سے ان کے راستے کے پتھر نہ بنیں اپنی توجہ کو دوسروں کی خامیوں سے ہٹا کر اپنی ذات کی تعمیر پر لگانا ہی حقیقی فکری بصیرت ہے۔
01/09/2026
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
01/09/2026
صوبائی سطح کے مسئلے پر جونیئر سطح کے مذاکرات؟
گلگت بلتستان کے اہم اور حساس معاملات پر صوبائی سطح پر احتجاج جاری ہے اور حکومت و متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے اہم صوبائی نوعیت کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مذاکرات کے لیے گلگت شہر اور ضلع سطح کے جونیئر پارٹی عہدیداروں کو بھیجا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی ضلع گلگت کے وفد میں پارٹی کے سینئر نائب صدر و سابق ڈپٹی اسپیکر جمیل احمد، ضلع گلگت کے سیکرٹری جنرل اشفاق افضل آخوندزادہ، نائب صدر عباداللہ پیر، سیکرٹری اطلاعات مجاہد منصوری اور سینئر رہنما شہزاد نوری شامل تھے، جنہوں نے انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے صدر سید شراف الدین اور کابینہ سے ملاقات کی۔
سوال یہ ہے کہ جب احتجاج اور مطالبات کی نوعیت صوبائی سطح کی ہے تو مذاکرات بھی صوبائی سطح کی بااختیار قیادت کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ گلگت شہر یا ضلع سطح کے پارٹی عہدیداروں اور اسی سطح کی تنظیمی قیادت کے ذریعے اتنے حساس اور بڑے مسئلے کا حل تلاش کرنا حکومتی اور سیاسی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ مذاکرات میں نہ کوئی صوبائی وزیر، نہ حکومت کا بااختیار نمائندہ اور نہ ہی فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والی اعلیٰ سطحی شخصیت موجود تھی۔
اگر واقعی حکومت اور سیاسی قیادت اس بحران کے حل میں سنجیدہ ہے تو مذاکرات رسمی ملاقاتوں کے بجائے صوبائی سطح کی بااختیار قیادت اور حکومت کے ذمہ دار نمائندوں کے درمیان ہونے چاہئیں، تاکہ مذاکرات کے نتائج بھی عملی اور قابلِ عمل ہوں۔
صوبائی سطح کے احتجاج اور بحران کا حل جونیئر سطح کے نمائندوں کے ذریعے تلاش کرنا مسئلے کی سنگینی کو کم کرنے کے مترادف ہے۔
31/08/2026
گلگت۔اسیران کی رہائی کے لئے حکومت کو دی گئی ڈیدلائن ختم ہونے پر مرکزی جامع مسجد میں جاری پروگرام کے اختتام پر آغا راحت کی قیادت میں علماءکرام احتجاجی طور پر گرفتاری دینگے
27/08/2026
🚨 داریل: قراقرم بینک کی گاڑی مبینہ طور پر لوٹ لی گئی، 3 کروڑ 50 لاکھ روپے نقدی موجود ہونے کا انکشاف
داریل کمول نالے میں قراقرم بینک گماری برانچ کی گاڑی مبینہ طور پر چوروں کے ہاتھوں لٹ گئی۔
بینک ذرائع کے مطابق گاڑی میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بھاری نقد رقم موجود تھی، جسے مبینہ طور پر واردات کے دوران لوٹ لیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، جبکہ بڑی رقم کی موجودگی کے باعث واقعہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ واردات میں کون ملوث ہے اور رقم کہاں منتقل کی گئی۔
⚠️ تاہم واقعے اور رقم کی تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
20/08/2026
گلگت بلتستان میں بینکوں کے اربوں روپے کے ڈپازٹس، مگر عوام کو قرض کیوں نہیں؟ وزیراعلیٰ کا بینکوں سے دوٹوک سوال
گلگت: گلگت بلتستان میں بینکاری نظام، حکومتی ڈپازٹس اور عوام کو قرضوں کی فراہمی کے معاملے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں گلگت بلتستان میں کام کرنے والے تمام کمرشل بینکوں، بشمول قراقرم کوآپریٹو بینک، کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فنانس ایکٹ 2026 کے حوالے سے بینکرز کے تحفظات سمیت صوبے میں بینکنگ اور قرضوں کی سہولیات کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بینکوں کے سامنے ایک اہم اور دوٹوک سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت بینکوں میں اربوں روپے کے ڈپازٹس رکھ رہی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں گلگت بلتستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں کو کاروبار اور روزگار کے لیے مطلوبہ قرضوں کی سہولت کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟
وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر ان نوجوانوں کے لیے آسان اور مؤثر فنانسنگ کی ضرورت پر زور دیا جو اپنے کاروبار شروع کرنے، اسٹارٹ اپس قائم کرنے اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بینکوں سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اپنے ہیڈ آفسز کی سطح پر سنجیدگی سے اٹھائیں اور گلگت بلتستان کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کے لیے قرضوں کی فراہمی اور فنانسنگ کے مؤثر طریقہ کار پر واضح پیش رفت سامنے لائیں۔
وزیراعلیٰ نے کمرشل بینکوں کو 10 روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ ہیڈ آفسز سے اس معاملے پر سنجیدہ مشاورت کریں۔ دس روز بعد دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ گلگت بلتستان حکومت کے مالی وسائل اور ڈپازٹس آئندہ بھی موجودہ کمرشل بینکاری نظام کے ذریعے جاری رکھے جائیں یا اس حوالے سے کوئی متبادل حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولنے کی کوشش
اجلاس میں زیرِ بحث آنے والا سب سے اہم پہلو گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔ اگر بینکنگ سیکٹر نوجوانوں کو قابلِ عمل کاروباری منصوبوں کے لیے مناسب فنانسنگ فراہم کرے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف نئے کاروبار قائم ہو سکتے ہیں بلکہ خود روزگار کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
گلگت بلتستان جیسے خطے میں، جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے محدود مواقع کا سامنا کر رہی ہے، کاروباری قرضوں اور اسٹارٹ اپ فنانسنگ تک آسان رسائی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے بینکوں کو دی گئی 10 روزہ مہلت اور آئندہ اجلاس میں حکومتی ڈپازٹس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا عندیہ اس معاملے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اب نظریں اگلے دس دن پر ہیں—کیا کمرشل بینک گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے قرضوں کی فراہمی کا مؤثر پلان پیش کریں گے، یا حکومت اپنے اربوں روپے کے ڈپازٹس کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ کرے گی؟
19/08/2026
تاریخ پڑھیں، ایجادات کا جائزہ لیں،
جنگوں کی چالیں پڑھیں، غیرت میں کٹی گردنوں کو پڑھیں
ہنر مند، کامیاب، اور با وقار لوگوں کی فہرست پڑھ ڈالیں...
تاکہ آپ کو چاہت فتح علی جیسا
مسخرہ، نیشہ پومی جیسا جاہل، رجب ڈکی جیسے بے غیرت
اور مجرہ کرتی بے حیا لڑکیاں ٹیلنٹڈ نہ لگیں
کاپی..
ملک سونامی خان اج بہت ہی خوشگوار موڈ میں ہیں
ان سے ملے یہ ہے قزلباش محلہ کے مشہور شخصیت ملک سونامی خان
12/08/2026
غزہ کے بعد مسلم دنیا: مزاحمت، مصلحت اور منافقت کے درمیان
غزہ نے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا، اس نے پوری مسلم دنیا کی خارجہ پالیسی، ترجیحات اور باہمی تضادات کو بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ کون فلسطین کے حق میں بیان دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون اپنی طاقت، سفارت کاری، معیشت اور علاقائی اثرورسوخ کو فلسطینیوں کے حق میں عملی طور پر استعمال کر رہا ہے، اور کون واشنگٹن، تل ابیب اور اپنے معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے فلسطین کے نام پر صرف سیاسی بیانیہ فروخت کر رہا ہے؟
اگر اس پورے منظرنامے کو نسبتاً غیر جانب دارانہ مگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ایک ملک سب سے نمایاں طور پر مختلف دکھائی دیتا ہے: ایران۔
ایران نے فلسطین کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکزی ستونوں میں رکھا۔ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کا خطرہ مول لیا، خطے میں اپنے اتحادی مزاحمتی نیٹ ورک کو برقرار رکھا اور اس قیمت کو بھی برداشت کیا جو اس پالیسی کی صورت میں اسے ادا کرنا پڑی۔ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف براہِ راست جنگ نے اس پوزیشن کی قیمت مزید واضح کر دی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی ہر داخلی یا خارجی پالیسی قابلِ تعریف ہے۔ ایران کے اپنے قومی مفادات، علاقائی طاقت کی خواہش اور داخلی سیاسی مسائل بھی ہیں۔ لیکن فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں عملی confrontation کی جس سطح پر ایران کھڑا ہے، مسلم دنیا میں اس وقت اس کا کوئی دوسرا ریاستی ہم پلہ نظر نہیں آتا۔
یہاں سے باقی مسلم دنیا کا موازنہ شروع ہوتا ہے۔
سعودی عرب اسرائیل کو ابھی تک تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنی سرکاری پالیسی کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔ لیکن ریاض کا راستہ ایران سے بالکل مختلف ہے۔
سعودی عرب براہِ راست مزاحمتی محاذ کا حصہ بننے کے بجائے امریکہ، عرب دنیا اور اپنے معاشی اثرورسوخ کے ذریعے سفارتی راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی اپنی سلامتی، تیل کی معیشت اور امریکی دفاعی شراکت داری اس کی خارجہ پالیسی کو ایک مخصوص حد تک محدود بھی کرتی ہے۔
یعنی سعودی عرب فلسطین کے خلاف نہیں، لیکن وہ فلسطین کے لیے ایران جیسی confrontation بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ترکیہ شاید اس پورے معاملے کی سب سے دلچسپ مثال ہے۔
صدر اردوان کی حکومت فلسطین کے حق میں انتہائی سخت سیاسی زبان استعمال کرتی ہے، اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور خود کو فلسطینی کاز کے ایک اہم محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
لیکن ریاستی تعلقات صرف تقریروں سے نہیں بنتے۔
ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان ماضی میں دفاعی تعاون، تجارت اور مختلف شعبوں میں تعلقات رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ آج کے سیاسی بیانات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ 2026 میں بھی ترکیہ نے غزہ کے امریکی سرپرستی والے Board of Peace کے عمل میں حصہ لیا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر اسرائیل ایک ریاستی دشمن اور فلسطینیوں کا قاتل ہے تو پھر اس کے ساتھ تعلقات کے دروازے مکمل طور پر کیوں بند نہیں ہوتے؟
ترکیہ کا جواب شاید یہی ہوگا کہ ریاستیں جذبات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔
لیکن پھر یہی اصول ایران پر لاگو کیوں نہیں کیا جاتا؟
اگر ایران اپنے مفادات کے لیے مزاحمتی نیٹ ورک بناتا ہے تو اسے "علاقائی مداخلت" کہا جاتا ہے، اور اگر ترکیہ یا خلیجی ممالک امریکہ اور مغرب کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے شراکت داری کرتے ہیں تو اسے "pragmatic diplomacy" کہا جاتا ہے۔
یہی دوہرا معیار بھی اس بحث کا حصہ ہے۔
UAE اس تضاد کی شاید سب سے واضح مثال ہے۔
متحدہ عرب امارات نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ Abraham Accords کے ذریعے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون بھی بڑھا۔ دوسری طرف UAE ایران کے ساتھ سفارتی اور معاشی روابط بھی رکھتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ قریبی علاقائی تعلقات رکھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ گہری دفاعی و اسٹریٹجک شراکت داری بھی۔
اب غزہ کے نئے امریکی امن فریم ورک میں بھی UAE شامل ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں "منافقت" کا لفظ عوامی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔
ایک طرف فلسطینی ریاست کی حمایت، دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات۔
ریاستی زبان میں اسے strategic balancing کہا جا سکتا ہے؛ لیکن غزہ میں مرنے والے عام فلسطینی کے لیے یہ تضاد شاید صرف ایک لفظ میں سمٹتا ہے: مصلحت۔
پاکستان کا معاملہ خلیجی ممالک سے مختلف ہے۔
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور غزہ کے معاملے پر سخت سیاسی مؤقف بھی اختیار کرتا رہا ہے۔
لیکن پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی معاشی vulnerability ہے۔
ایک کمزور معیشت، بیرونی قرضوں، مالیاتی دباؤ اور عالمی مالیاتی نظام پر انحصار کرنے والی ریاست کے لیے امریکہ کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا آسان نہیں۔
اسی لیے پاکستان نے امریکی صدر کے Gaza Board of Peace میں شمولیت بھی اختیار کی ہے، جسے اسلام آباد نے غزہ میں امن، جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اور سوال بھی ہے جس سے فرار ممکن نہیں:
کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر سول حکومت کے ہاتھ میں ہے؟
پاکستان میں تاریخی طور پر عسکری ادارے کا خارجہ اور سلامتی کے معاملات میں غیر معمولی اثرورسوخ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان رابطے بھی نمایاں رہے ہیں۔ Board of Peace میں پاکستان کی شمولیت کے اعلان کے وقت پاکستانی آرمی چیف کا ڈیووس میں امریکی صدر سے متعلق اہم سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں موجود ہونا بھی رپورٹ ہوا تھا۔
اس لیے پاکستان کے معاملے کو صرف "منافقت" کہہ دینا بھی شاید مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔
یہاں اصول اور مجبوری دونوں ساتھ چل رہے ہیں۔
یہاں آکر مسلم دنیا کی اصل تقسیم سامنے آتی ہے۔
ایک طرف وہ ریاستیں ہیں جو کہتی ہیں:
"ہم فلسطین کے ساتھ ہیں، لیکن ہماری اپنی معاشی، دفاعی اور سفارتی مجبوریاں ہیں۔"
دوسری طرف ایران کا ماڈل ہے جو کہتا ہے:
"فلسطین کے لیے confrontation کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے تو ادا کریں گے۔"
اور تیسری طرف وہ قوتیں ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکی ہیں اور پھر فلسطینیوں کے لیے امن کے منصوبوں کا حصہ بھی ہیں۔
یہاں کسی ایک ملک کو مکمل فرشتہ اور دوسرے کو مکمل شیطان قرار دینا بھی درست نہیں۔ ریاستیں مفادات کے مطابق چلتی ہیں۔ مگر ریاستی مفادات اور اخلاقی دعووں کے درمیان جتنا بڑا فاصلہ ہو، اتنا ہی سوال پیدا ہوتا ہے۔
عرب دنیا کی عسکری تاریخ بھی اس بحث کا اہم پس منظر ہے۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں عرب ریاستوں کو اسرائیل کے ہاتھوں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد عرب ریاستوں کی بڑی تعداد نے براہِ راست عسکری confrontation کے بجائے سفارت کاری، معیشت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
آج کی عرب دنیا اسی تاریخی تجربے کا نتیجہ بھی ہے۔
ایران نے مختلف راستہ اختیار کیا۔
اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ کون فلسطین سے محبت کرتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ کون فلسطین کے لیے اپنی strategic autonomy قربان کرنے کو تیار ہے؟
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایران اور باقی مسلم دنیا کے درمیان سب سے بڑا فرق پیدا ہوتا ہے۔
غزہ نے مسلم دنیا کو ایک آئینہ دکھایا ہے۔
اس آئینے میں ایران ہمیں مزاحمت کی تصویر دکھاتا ہے۔
سعودی عرب سفارتی مصلحت کی۔
ترکیہ سخت بیانات اور پیچیدہ مفادات کے تضاد کی۔
UAE normalization اور strategic balancing کی۔
اور پاکستان اصولی مؤقف، معاشی کمزوری اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان پھنسی ہوئی ریاست کی تصویر دکھاتا ہے۔
شاید اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ سوال یہی ہے:
اگر فلسطین واقعی امت کا مسئلہ ہے تو پھر امت کی اتنی بڑی تعداد اپنی معاشی، دفاعی اور سفارتی طاقت کو اسرائیل کے خلاف ایک مشترکہ پالیسی میں کیوں تبدیل نہیں کر پائی؟
جواب شاید "منافقت" سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
اس میں خوف بھی ہے، مصلحت بھی، معاشی انحصار بھی، امریکی طاقت بھی، داخلی سیاست بھی اور قومی مفادات بھی۔
لیکن ان سب کے درمیان ایک حقیقت بہرحال اپنی جگہ موجود ہے:
بیانات بہت سے دے رہے ہیں؛ قیمت ادا کرنے کے لیے آج بھی بہت کم تیار ہیں۔
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100
Opening Hours
| 09:00 - 17:00 |