Muhammad Ismail

Muhammad Ismail

Share

Scholar, Writer, Columnist

Photos from Muhammad Ismail's post 22/04/2022

ڈاکٹر سید عارف حسین کے ساتھ قراقرم یونیورسٹی گلگت میں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Photos from Muhammad Ismail's post 19/03/2022

سکردو: متاثرین روندو کا مطالبہ کرتے ہیں کہ طالبہ و طالبات کے فیسوں کو معاف کیا جائے اور طالبہ و طالبات کو حالات بیتر ہونے تک وظیفہ دیا جائے تاکہ اپنی تعلیم جاری کرسکے۔
# # حکومت جلد از جلد متاثرین کو کسی محفوظ مقام میں ایڈجسٹ کرنا اشد ضروری ہے ۔۔۔

Photos from Muhammad Ismail's post 18/03/2022

متاثرین اور حکومت کی بے بسی۔۔۔
تحصیل رونرو مسلسل چار ماہ سے زلزلے کی زد میں ہیں ۔27 دسمبر 2021 سے شروع ہونے ولا سلسہ اپ تک نہ تھماسکا اور دن بہ دن زلزلے کی جھٹکے زیادہ ہورہے ہیں ۔خاص طور پر گجیئ یونین اس وقت تباہی کا منظر دیکھے رہا ہے۔لوگوں کو نہ دن میں سکوں ہے اور نہ رات میں کوگ نہ تو ٹھیک سے کام کرسکتا ہیں اور نہ آرام کرسکتے ہیں ۔اس وقت کاشت کاری کا موسم مگر لوگ پرنشان حال کی صورت میں ہیں ۔95 فیصد لوگوں کا دو وقت کی روٹی کا ذریعہ کھتی باڑی اور مال مولیشی ہے۔پانی کی نہر کو ہر روزہ صرف کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کوگ ذہنی مریض بن چکی ہیں ۔پانی کی نہریں 10 کلومیڑ لمبی ہے جس کی وجہ سے ہر وقت صاف کرنا اور فصلوں کو پانی دینا ناممکن ہوگیا ہے۔اگر صورت حال یہی رہئ تو لوگ قہصہ حالی اور دماغی بیماریوں میں متیلا ہوگئے۔ لوگوں کا ذریعہ آمدانی آلو، گندم ، گھاس اور مال مویشی ہے۔اس وقت گجئ سنسبر اور یلبو کے عوام بے یار مدر گار حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔امداد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دو کلو آٹا دو چینی اور کچھ صابن دو اور کہا جائے کی ہم نے امدار دی ہے۔۔اس وقت متاثرین کا دو کلو آٹا دو چینی کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل مسلہ تولب حال ہے۔ اپ تک ہزاروں کی تعدا میں مال و مویشی کا نقصان ہوا ہے ۔ پورا گجی یونین میں مکانات رہنیے کے قابل نہیں ہے۔100 فیصد مکانات تباہ ہوچکے ہیں ۔مگر مقامی انتظامیہ کی نااہلی اور کریش کی وجہ سے اپ تک کوئی مسلئہ نہیں رہا ہے ۔اس وقت روندو کی مقامی انتظامہ دو نمبری میں پہلے نمبر پہ ہے۔ ٹینٹ کے نام پر لوگوں کی عزت و آبرو کا جنازہ نکال جارہاہے۔ دو یا تین خاندانوں کے درمیان ایک ٹینٹ دینا متاثرین کی توہین ہے۔ کیا وزیر اعلی یا صوبائی وزیر راجہ ناصر علی خان اپنے گھر ولا اور کسی نامحرم خاندان کے ساتھ مل کر ایک ٹینٹ میں رات گزار سکتے ہیں یا مقامی انتظامہ کے لوگ اپنی گھر والوں کو کسی غیر کے ساتھ رات گزارنے دہے گئے مگر ایسا نہیں کرتے مگر اس وقت رونرو غریب اور بے بس عوام کے ساتھ ایسا غیر اسلامی غیر اخلاقی سلوک کیا جارہا ہے۔اگر حکومت ایک ٹینٹ نہیں دے سکتی ہے تو اور کیا کرسکتی ہے ۔وزیر اعلی گلگت بلستان اور گورنر کا دودہ بھی ناکام رہا ہے ۔ان دونوں نے عوام کو چورنا گلکر چلے گیے۔گورنر گلگت بلستان کو دودہ تو مختلف تھا۔ وہ تو متاثرین کے پاس گیا ہی بلکہ الیسے لوگوں کو امداد دیاگیا جن کا ایک انچ بھی نقصان نہیں پہنچاتھا۔یہ نااہل انتظامیہ اور حکومت کچھ لوگوں کی تحفظات نہی دی سکتی ہے تو 21 کڑور عوام کو کیا کرسکتی ہے ۔اس لے آج ریاست پاکستان دن بہ دن معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہو رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی نااہلی اور کریش ہے۔ایک زرعی ملک اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک اس وقت تباہئ کے آخری حلات غیر میں ہے۔ گکگت بلستان کے نمائندے کھبی دبئی میں تو کھبی میں، پاکستان کے مختلف شہروں میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں ۔خاص کر راجہ ناصر علی خان جو 16 مارچ کی زلزلے کے وقت فیصل آباد میں ناچنے میں مصروف تھے۔16 مارچ کو آنے والے زلزلے میں اپ تک کئی افراد زخمی اور ایک شحض وفات ہوچگا ہے۔اس زلزلے میں گجی سبسر اور یلبو میں تباہی کردی ہے۔ تمام مکانات تباہ ہوچکے ہیں ۔ٹنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس سردی میں لوگ کھل آسمان زندگی بسر کررہے ہیں۔لوگوں کا رابط ایک گاوں سے دوسرے گاوں منقطہ ہوچکا ہے۔۔دو دن بعد بھی رابطہ نہ ہونا پریشان کن ہے۔اس وقت حکومت کو ٹینٹ اور دو کلو آٹا دو چینی دینے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو کسی محفوظ مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔اگر ایسا نہیں ہوا تو سانحہ 8 اکتوبر 2005 کشمیر کا واقعہ پیش آتاسکتا ہے۔ اس وقت کے شیطان اور ظالم حکمران کو اس بات پر جلد از جلد کسی دوسرے مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔ہم راجہ ناصر علی خان ارو اس کی موجودہ نااہل انتظامیہ کی جنتی مزمت کی جائے کم کیونکہ انکی وجہ سے چار ماہ بعد بھی لوگ غیر محفوظ ہے ۔ کم از کم ایک دن میں 100 سے زیادہ جھٹکے آتے ہیں جس کی وجہ سے نہ دن میں سکوں اور نہ رات کو۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد متاثرین کو کسی محفوظ مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔۔ہم متاثرین حکومت وقت سے درج ذیل مطالبات کرتے ہیں ۔
1۔زلزے زدگان کو جلد از جلد کسی مناسب اور محفوظ مقام میں ایڈجسٹ کیا جائے۔
2۔کسی مناسب جگے پر منتقل کر کے ان کو رہنے اور زندگی کی دوسری طبعی و غزائی سہولیات فوری مہیا کی جائے۔
3۔ مالی اور جانی نقصانات کا جلد از جلد معاوضہ دیا جائے ۔
4۔ تباہشدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کا معاوضہ دیا جائے۔
5۔ مقامی لوگوں کی ذریعے معاش زارعت پر ہے مگر زلزلے کی وجہ سے نہریں نظام تباہ و برباد ہوچکے ہیں ۔
6۔ اگر صورت حال بیتر نہیں ہوئی تو مقامی لوگ بھوک سے مر جائے گئے۔۔
7۔ اپ تک ہزاروں کی تعدا میں مال و مویشی مر چکی ہے ان کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے ۔
ہم متاثرین اس وقت گلگت بلستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جلد از جلد زلزلہ زدگان کو فورا کسی مناسب اور صاف سہولت جگہ میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔آس جگے میں صرف پانی صحت ،تعلیم اور گھر کے ایک فرد کو مالازمت دی جائے تاکہ دو وقت کی روٹی کا ذریعہ بن سکے۔
8۔ گجی یونین کے تمام لوگوں کے طالبہ و طالبات کے فیسوں کو معاف کیا جائے اور تمام طالبہ و طالبات کو حالاتبیتر ہونے تک معاوضہ دیا جائے تاکہ اپنی تعلیم جارہی کر سکتے۔ ہم صدر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان صوبائی حکومت اور راجہ ناصر علی خان سے مطالبہ کرتےہیں کہ
ہمارےطالبہ و طالبات کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے اور فیسوں کو معاف کیا جائے ۔
ہم والسچانسلر یونیورسٹی آف بلستان اور جامعہ قراقرم یونیورسٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کے بچوں کی فیسن معاف کی جائے ۔۔

Photos from Muhammad Ismail's post 17/03/2022

Article : karaakoram Magazine: karakorum international University, Gilgilt

11/03/2022

روزنامہ ۔۔۔بادشمال ۔۔گلگت بلستان ۔۔11 مارچ 2022

Photos from Muhammad Ismail's post 11/03/2022
23/02/2022

پاکستان میں تحقیق کا معیار:
تحریر: محمد اسماعیل حمزہ۔
تعلیم عربی لفظ’’علم‘‘سے مشتق ہے۔علم کے معنی ہے جاننا،آگاہی حاصل کرنا،واقفیت،شعور یاباطنی روشنی۔ایجوکیشن لاطینی زبان کالفظ ہے جس کے معنی نشوونما کرنا،تربیت اورپرورش کرنا ہے۔تعلیم کی اصطلاحی تعریف دیکھی جائے توتعلیم سے مراد نئی نسلوں تک معاشرتی اقدار،ادب اورثقافت کی منتقلی ہے
جبکہ تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نیا علم اخذ کرنا / دریافت کرنا یا کسی گزشتہ معلومات یا علم یا کسی نئے علم سے متعلق بحث و تکرار۔ اسے تحقیق کہا جاسکتا ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا کی ان ریاستوں میں شامل ہے جو اپنی بقا کے لیے جنگ لڑی رہی ہیں۔ملک میں اس وقت معاشی، سیاسی، سماجی یہاں تک کے عدالتی نظام بھی بدحالی کا شکار ہے۔جبکہ تعلیم کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔امیروں اور غریبوں دونوں کے لیے الگ الگ تعلیمی نظام موجودہ ہیں۔سرکاری اسکولوں میں نظام تعلیم کا حال توبہت خراب ہے اور صرف پانچ فیصد لوگ معاشی ، سیاسی اور سماجی زندگی کے حوالے سے طاقت ور ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے۔انگریزی ملک کی سرکاری زبان اور پرائیویٹ تعلیمی کی جان اور شان بنی ہوئی ہے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے کہ پاکستان کا ہر بچہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے مگر بےچارے معصوم بچے کو بیک وقت چار زبانیں سیکھنی اور سمجھنی پڑتی ہے۔
پاکستان میں بچوں کو اپنی علاقائی زبانیں نہ صرف سیکھنی چاہیے بلکہ اسی میں وہ بہتر تعلیم بھی حاصل کر سکتا ہے کیونکہ وہی ایک زبان ایسی ہوتی ہے جس میں اس کو سب آسانی سے سمجھ آ سکتا ہے یاد رہ سکتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلی زبان مادری ہی بولتا ہے جبکہ دوسری عربی تیسری اردو اور چوتھائی انگزیری زبان ۔ یہ اس کے لیےسب سے بڑا اور مشکل دور ہوتاہے۔ جبکہ ہم دوسری دنیا میں دیکھتے ہیں تو جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے ان میں سے زیادہ تر میں اپنی قومی یا مقامی زبان میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔ مثلا چین، روس، جرمنی وغیرہ۔سرکاری اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کسی حد تک اردو زبان میں تعلیمی دی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ تر غریب طالبہ و طالبات تعلیم حاصل کرتےہیں دوسری طرف امرا کے بچے امریکن و برٹش نظام تعلیم کاحصہ ہیں۔وزیراعظم سے لیکر قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے بچے تک امریکن اور برطانوی طرز تعلیم حاصل کرتے ہیں۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ملک کا نظام تعلیم ٹھیک اور اچھا ہو بھی تو کس کے لیے اس عام عوام اور غریب کے لیے جو کہ تقربیا غلامی کی زندگی گزار رہا ہے۔لہذاجب تک ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج نہیں ہوگا اور امیر اور غریب کا بچہ ایک چھت تلے نہیں پڑھیں گے نا تعلیمی ادارے اور نہ ہی انتظامیہ اس کو سدھارنے کے لیے کوئی کوشش کریں گے۔جہاں ایک جانب نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے وہی دوسری طرف مادری یا قومی زبان میں تعلیم نہیں دی جائے گی اس وقت تک معیاری تعلیم کا خواب شرمندہ تعمیر نہیں ہوسکے گا اور ملک و قوم کی ترقی بھی ممکن نہیں ہوگی۔
اب بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں کامعیار تعلیمی اور تحقیقی نظام، پاکستان میں اس وقت تحقیقی نظام کی صورتحال بہت خراب ہے۔پاکستان میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایم۔فل اور پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں تحقیقی مکالمے اور کتابیں لکھتے ہیں اور ان مکالمہ جات کو شائع بھی کیا جاتا ہے۔مگر ایک عرصہ ہوا کہ کوئی بھی تحقیقی مکالمہ عالمی اور علمی دنیا میں ایساممتاز مقام اورانعام حاصل نہیں کرسکا کہ جس کی بنا پر کسی شعبہ میں انقلاب برپا ہوپایا ہو۔اکثر یونیورسٹیوں میں سپر وائیزر طالبہ و طالبات کے ساتھ ناانصافی کرجاتے ہیں۔وہ نہ ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور نہ ہی طالبہ و طالبات کے وقت کی کوئی قدر کرتے ہیں۔بلکہ طالبعلموں کو دباؤ میں رکھتےہیں۔
پاکستان میں دس فیصد نگران اچھے، قابل اپنے کام کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ۔اس لیے وہ طالبعلم کو وقت دیتے ہیں اور ان کا کام مقررہ وقت میں مکمل کرواتے ہیں اور آخری حد تک تعاون کرتے ہیں۔ ایچ ائ سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر تحقیقی مکالمے غیر معیاری ہوتے ہیں اس لیے بہت کم تحقیق مکالمہ جات علمی دنیا میں کو توجہ حاصل کرسکے۔ خاص طور پرسماجی سائنس میں تو تحقیق بہت کم ہے۔
اگر پاکستان میں تحقیق اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے تو 1۔پورے پاکستان میں یکساں نظام تعلیم ہو۔ انگریزی زبان کی جگہ اردو کو ترجیح دی جائے ۔
2۔پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طالب علموں کو وظیفہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ اچھی اور معیاری تحقیق صرف کریں۔
3۔پروفیسر حضرات کو اخلاقیات اور ایمانداری کی تعلیم دی جائے تاکہ طالب علم اپنے نگران سے تنگ نہ ہو۔
4۔سپر وائیزر کی وجہ سے اکثر طالب علم تعلیم کوخیر آباد کرتے ہیں یا ذہنی بیماریوں شکار ہوجاتے ہیں ۔
5۔اگر وقت پر ڈگری مکمل نہیں ہوتی ہے تو اس کی سزا سپر وائیزر کو بھی ملنی چاہیے تاکہ نگران بھی وقت پر طالب علم کے ساتھ دیں۔کیونکہ سپر وائیزر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں مقررہ وقت میں ڈگری مکمل نہیں ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے طالب علم معاشی ، سماجی اور ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہے۔
6۔اس وقت پاکستان میں تحقیق کا معیار بہت پست ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بہترنظام کا نہ ہونا ہے۔ سپر وائیزر اور طالب علم کے ساتھ رابط کا فقدان، وقت کا نہ دینا اخلاقات نہ ہونا اور طالب علم کو ذہنی دباؤ میں رکھنا، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالبہ و طالبات کو وظیفہ نہ ملنا لہٰذا ارباب اختیار کو طالبہ و طالبات کی فلاح و بہبود کے لیے کام اور اقدامات کرنے چاہیئے۔

14/02/2022

آصف اللہ ایماندار اوربہادر آفیسر
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔(محمد اسماعیل حمزہ )
آصف اللہ ایک ایماندار اور بہادر آفیسر ہے ۔اپنی پوری زندگی میں کوئی غیر قانونی کام نہی کیا ہے۔۔آصف اللہ گلگت بلستان کے وفادار اور غیرمندہ اور حقیقی پسند انسان ہے۔ وقاقی سطح پر ہونے والا کام کسی ایک آفیسر کے ساتھ منسلک کرنا قابل مزمت ہے۔۔آصف اللہ کا ایک ڈپیمانیٹ میں کچھ دن ہوئے ہیں ۔۔
ناصر آباد ماربل لیز میں تمام تر قواعد وضوبط کے تحت فیصلے کئے گئے ہیں۔چند مفاد پرست عناصرکے کسی دباو کا شکار ہے۔اور کچھ قوم پرست قوم کو بے قوف بنایا جایا رہا ہے ۔ وفاقی سطح کی پالیسی ہے اس لے لوگوں کو چاہے کہ وہ وفاق کے خلاف آوازہ بلند کر لے۔ مقامی آفیسروںکا کام قانون کی بالادستی قائم کرنا ہر شہری کا اولین فریضہ ہے ناصر آباد ماربل لیز میں تمام تر قواعد وضوبط کے تحت فیصلے کئے گئے ہیں۔چند مفاد پرست عناصر کے کسی دباو کا شکار نہیں ہوئے ہیں اور نہ اب ہونے والے ہیں، میں کوی نیا فیصلہ نہیں کر رہا صرف شو کاز کر رہا ہوں کہ ان تین انکوائریز کے باوجود الناصر سوسائٹی آخر کیوں دوارے قانونی لیز ہولڈر کو کام کرنے نہیں دے رہی، صرف اس بات پر اتنے گھناونے الزام لگا کر منفی پروپیگنڈہ کرنے کا صاف مطلب ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔۔
آصف اللہ کے کا کہنا تھا کہ میں سندھ یا بلوچستان سے نہیں آیا میں اسی دھرتی کا ہوں، یہیں پر پچھلے بیس سال سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں، میرا ماضی میرا کیریر دیکھ کر اس قسم کے پروپیگنڈہ پر یقین کریں. وقت آنے پر ناصرآباد کے اس مفاد پرست ٹولے سے بڑھ کر عوام کا دفاع کرنے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہوں. انہوں نے کہا کہ پاکستان اور گلگت بلتستان کے قوانين کے مطابق تمام قدرتی وسائل بشمول معدنیات کا انتظام و انصرام حکومت کا کام ہے. کوی بھی قوم یا علاقہ اس نسبت اے کہ یہ زمین اسکی ملکیت ہے کسی بھی معدنیاتی لیز کی دعوے دار نہیں ہوسکتی. لیز ہمیشہ ایک قانون کے تحت کسی بھی درخواست گزار کو دی جاتی ہے. ناصرآباد کی مذکورہ ماربل لیز ناصر کی سوسائٹی اور مہمند دادا کے درمیان مختلف حدود کے ساتھ الاٹ ہے. تاہم بدقسمتی سے ناصرآباد کی اس کمیٹی کی آڑ میں چند مفاد پسند عناصر اس عظیم قومی اور عومی خزانے کے اوپر پچھلے بیس سالوں سے سانپ بن کر بیٹھے ہیں. نہ خود اپنی الاٹ شدہ جگہ پر کام کرتے ہیں نہ دوسری کمپنی کو کام کرنے دیتے ہیں. البتہ سادہ لوح عوام کو بہلا پھسلا کر عوامی دباو کو درپردہ استعمال کر کے دوسری لیز کے حدود سے کافی مال نکال چکے ہیں. یہ مال پچھلے تین چار سالوں سے ناصرآباد میں ہی پڑا ہوا ہے اور حکومتی اداروں نے اسکے ترسیل کی اجازت نہیں دی. فریقین کی درخواستوں پر سابقہ سی ایم، چیف سیکرٹری اور عدالت عالیہ نے اپنے اپنے لیول پر انکوائری کروای اور ناصرآباد کے عوام کی آڑ میں چھپے ان مفاد پرست ٹولے کو قصوروار ٹھرایا اور حکم جاری کیا کہ دونوں فریق پہلے سے مختص جگہ پر کام کریں. سابقہ چیف سیکرٹری نے یہاں تک لکھا کہ آئندہ اس کمیٹی کی کسی درخواست پر قومی پیسہ اور وقت ضائع نہ کیا جاے.
تازہ صورتحال کے پیچھے قصہ کچھ یوں ہے کہ جی بی کے معتبر ترین آفیسر کی اس محکمے میں تبادلے کے بعد انہوں نے اس قسم کے بوسیدہ کیسز کی چھان بین شروع کی. اس چھان بین کے دوران ضلع شگر کے ایک ستاییس سالہ پرانے تنازعہ کو حل کردیا ، ضلع نگر کے دس سالہ پرانا متنازعہ کیس کو بھی حل کیا. ناصرآباد کے اس کیس کے حل کیلئے اہلیان ناصرآباد کو دفتر طلب کیا تاکہ انکا موقف جان سکے کہ آخر اتنے واضح فیصلوں کے بعد وہ کیوں اس مسئلے کا حل نہیں کرنے دیتے. لیز کا کام صرف ناصر آباد میں نہیں دیا گیا ہے بلکہ 2016 سے یہ کام جاری و ساری ہے۔یہ لیز کا کام روندو شگر اور بلستان میں دیا گیا ہے۔ موجودہ سیکریڑی کا اس لیز سے کوئی واسطے نہیں ہے ۔بلکہ آصف اللہ خان نے قانون اور آئیں کے رے کر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔
ہم آصف اللہ کے خلاف ہونے والے غیر اخلاقی غیر اسلامی غیر قانونی اور ایک ایماندار آفیسر جس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی ایک روپیہ بھی کسی سے نہیں لیا ہے۔۔آج تک نہ کوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔۔ایسے لوگوں کی برپھر مزمت کرتے ہیں ۔۔۔۔

Photos from Muhammad Ismail's post 29/01/2022

سور کا دل انسانی جسم میں ۔۔۔۔

Photos from Muhammad Ismail's post 28/01/2022

علم بیالوجی کے مطابق دل کا کام انسان کے پورے جسم میں خون کی ترسیل کرتا ہے۔۔اگر دل خون کی ترسیل بند کر دے تو انسان کی موت واقع ہوتی ہے۔عام زندگی میں لوگوں کا خیال ہے کہ دل سے محبت پیار اور عاشق کیا جاتا ہے۔اور انسان اگر دل سے محنت کریں تو کامیاب ہوتا ہے۔مگر علم بیالوجی کے مطابق ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔بلکہ انسان کی دماغ سے انسان کام کرتا ہے۔ اچھائی اور برائی سب انسان کی دماغ سے تعلق رکھتی ہے۔۔انسان کا پیار اور محبت کا تعلق بھی دل سے نہیں ہے بلکہ ہیار اور محبت کا تعلق انسان کی دماغ سے ہے.اگر دل کام کرنا چھوڑ دیں تو انسان کی موت واقع ہوتی ہے اگر دماغ کام کرنا چھوڑ دیں تو انسان پاگل ہوتا ہے۔انسان کے پاس سوچنے اور سمجھانے کی سہولت ختم ہوتی ہے۔۔اس کا مطلب کانئات میں دل اور دماغ کا کام الگ آلگ ہے

11/01/2022

CPEC & نقصانات ۔$ Gilgilt $ Baltistan $

07/01/2022

The Wakhan Corridor is the narrow strip of territory in northeastern Afghanistan that extends to China and separates Tajikistan from Pakistan. The corridor, is about 350 km (220 mi) long and 13–65 kilometers (8.1–40.4 mi) wide. the Wakhan Corridor had 12,000 inhabitants. There are about 110 villages.
This narrow corridor gives a direct access to CARs.
Pakistan should purchase this piece of land from Afghanistan to get a direct access to CARs.

Website