Gilgit Baltistan valley's
let's explore GB 🗾
22/04/2026
اسلم انقلابی سے ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا عوام کی خاطر اگر پیدل چلنا بھی پڑے تو کبھی انکار نہیں کیا ہیں یہاں تک پھٹی جوتی ہاتھ میں لیکر پیدل چلے ہیں اج جب کمپین کے لیے بھی نکلیں ہیں تو ایک موٹر سائیکل لیکر یہ بندہ پیٹ کا پجاری نہیں اسے نہ پیسے کی لالچ ہیں نہ گاڈی کی .
نیک خواہشات 🤲
سراج بالاورستانی
30/12/2025
امیدوار برائے گلگت بلتستان اسمبلی اسلم انقلابی کا محکمہ برقیات ایکسین غزر امیر شاہ سے ملاقات یاسین میں بجلی کی بحران پہ تفصیلی گفتگو امیر شاہ صاحب کا ایک ہفتے کے اندر یاسین میں بجلی کی بحران کو حتم کرنے کی یقین دہانی اسلم انقلابی نے مطالبہ کیا یاسین میں وئی آئی پی کلچر ختم کیا جائے سپیشل لائن نمایندہ سمیٹ دیگر وئی آئی پیز بندوں جو دی گئی ہیں وہ فوری طور پہ کاٹ دیا جائے اور عوام کو فوری طور پہ بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا
30/12/2025
ہمیں سرکاری اسکولوں کے بارے میں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔۔۔!
تحریر : نسیمہ ایجوکیشن فیلو
ایک دن میں اپنی بہن کے لیے اسٹیشنری خریدنے دکان پر گیا۔ جب میں نے کہا کہ مجھے ایک کاپی چاہیے، تو دکاندار نے فوراً کہا: “سرکاری اسکول کا بچہ ہے نا؟ تو 50 روپے والی کاپی دے دیتا ہوں۔” یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی اور دل میں ایک عجیب سی کسک پیدا ہوئی۔ کیا سرکاری اسکول کے طلبہ کی تعلیمی وقعت اتنی کم ہے کہ ان کے لیے صرف سستی اور کم معیار کی اشیاء ہی مناسب سمجھی جاتی ہیں؟
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، مگر ہمارے معاشرے میں سرکاری اسکولوں کے بارے میں پائی جانے والی عمومی سوچ کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری اسکولوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ اسکولوں کے اندر قابل اساتذہ موجود ہونے کے باوجود ان پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں، اسکول کے نظم و ضبط کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ صرف اسکول کے عملے یا حکومت پر الزام تراشی سے ختم نہیں ہو گی — اس کے لیے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔
سرکاری اسکول دراصل تعلیم کی بنیاد ہیں۔
یہی اسکول اس ملک کی اکثریتی آبادی کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ یہاں وہ بچے پڑھتے ہیں جن کے والدین مہنگے نجی اسکولوں کی فیس برداشت نہیں کرسکتے، مگر ان کے خواب اور صلاحیتیں کسی امیر بچے سے کم نہیں ہوتیں۔ جب ہم ان کے حقِ تعلیم یا ان کے خوابوں کو کم تر سمجھتے ہیں تو دراصل ہم اپنے معاشرے کے مستقبل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ہمیں ماننا ہوگا کہ سرکاری اسکول صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اس ملک کا مستقبل سنوارنے والی نرسریاں ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے تعلیمی اداروں سے بہترین اور معیاری طلبہ تیار ہوں، تو ہمیں ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع دینا ہوں گے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی — اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانا، ان اسکولوں کی بہتری کے لیے آواز اٹھانا اور ان کے اساتذہ کو عزت دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تعلیم صرف کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ سوچ، رویے اور معاشرتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک ایجوکیشن فیلو ہونے کے ناطے میرا کام صرف بچوں کو پڑھانا نہیں بلکہ ان کی خود اعتمادی کو مضبوط کرنا اور ان غلط معاشرتی تصورات کو چیلنج کرنا بھی ہے جو سرکاری اسکولوں کے بارے میں قائم ہو چکے ہیں۔
سرکاری اسکول ایک نظر انداز شدہ خزانہ ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی بچے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے، تو اکثر ترس یا ہمدردی کا لہجہ اختیار کرلیا جاتا ہے — جیسے وہ کسی کمزور یا ناکام نظام کا حصہ ہو۔
کیا ان بچوں کا کوئی قصور ہے؟
کیا ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ متوسط یا کم آمدنی والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں؟
یہ بچے بھی خواب دیکھتے ہیں، کچھ بننے کی لگن رکھتے ہیں، مگر معاشرتی رویے ان کے ذہن اور اعتماد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب دکاندار، ہمسائے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنے گھر والے بھی یہ کہیں کہ “سرکاری اسکول میں کیا رکھا ہے؟” تو بچے کا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔
اندرونی ماحول کی مضبوطی — مگر بیرونی سوچ کی دیوار باقی
بطور تعلیمی فیلو ہم روز اسکول کے اندر جا کر بچوں کو معیاری تعلیم دینے، ان کی شخصیت نکھارنے، ان میں تنقیدی سوچ، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اساتذہ کے ساتھ مل کر بہتر سیکھنے کا ماحول بناتے ہیں، نت نئی سرگرمیاں کراتے ہیں — مگر جب یہی بچہ اسکول سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اسے ایسے معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں اس کے ادارے کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف اشیاء کا مسئلہ نہیں بلکہ ذہنیت کا سوال ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ سوچ بدلیں۔
ہمیں والدین، دکانداروں، کمیونٹی لیڈرز اور عام شہریوں سے مکالمہ کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ سرکاری اسکولوں کے بچے بھی ذہین، باصلاحیت اور محنتی ہوتے ہیں — انہیں صرف مواقع کی ضرورت ہے۔ اجتماعی کوشش ہی ان بچوں کا مستقبل سنوار سکتی ہے۔
تعلیم کی قدر عمارت سے نہیں، مشن، استاد اور طالب علم سے پہچانی جاتی ہے۔
دکاندار کا وہ جملہ — “یہ سرکاری اسکول کے لیے ہے” — صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پوری سوچ کی عکاسی ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے شعور، آگاہی اور عملی قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کی قدر بڑھے، تو سب سے پہلے ہمیں خود ان کی قدر کرنی ہوگی۔
گلگت سکوار علی آباد کالونی میں گزشتہ 21 دنوں سے ٹرانسفرمر کی خرابی کی بدولت دو سو سے زائد گھرانے مسلسل اندھرے میں ہیں علاقے کے دو سو سے زاید علاقہ مکینوں نے 48 گھنٹے کے اندر بجلی بحال نہ کرنے کی صورت میں خواتین بچوں سمیت رامادہ ہوٹل کے قریب مین روڈ کے کے ایچ بند کرنے کا اعلان کر دیاامیدوار برائے قانون ساز اسمبلی اسلم انقلابی کا عوام سمیت ویڈیو پیغام
24/12/2025
شیر نادر شاہی — حق کی آواز، قوم کا اصل رہنما
تحریر: ایم ٹی اقبال حسین
شیر نادر شاہی کوئی عام سیاست دان نہیں بلکہ وہ حق گو، نڈر اور باکردار رہنما ہیں جنہوں نے برسوں سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ وہ شخص جس نے نہ کبھی اپنے ضمیر کا سودا کیا، نہ دباؤ کے آگے جھکا، اور نہ ہی طاقت کے ایوانوں سے خوفزدہ ہوا۔
ATA ہو یا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، FIA کے نوٹس ہوں یا خفیہ اداروں کی دھمکیاں—ہر طرح کے ہتھکنڈے آزمائے گئے، مگر شیر نادر شاہی کو نہ خریدا جا سکا اور نہ جھکایا جا سکا۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، اپنے مستقبل اور اپنی آسائشوں کو داؤ پر لگا کر صرف اور صرف قوم کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔
گلگت بلتستان میں جہاں کہیں ظلم ہوا، کسی بہن بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی، پہاڑوں اور زمینوں کی لوٹ مار ہوئی، یا عوامی وسائل پر قبضہ کیا گیا—شیر نادر شاہی نے ہمیشہ سب سے پہلے آواز بلند کی۔ اسی حق گوئی کی قیمت انہوں نے برسوں جیل کاٹ کر ادا کی، مگر حق کا علم سرنگوں نہیں ہونے دیا۔
آج بھی اگر گلگت میں کوئی مسئلہ ہو، کہیں احتجاج ہو، یا عوام کے حقوق پامال ہوں—تو شیر نادر شاہی آپ کو سڑکوں پر، احتجاجی صفوں میں اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی نام نہیں بلکہ تحریک بن چکے ہیں۔
دوسری جانب وہ لوگ جنہیں پہلے عوام نے ووٹ دیے، انہوں نے کیا دیا؟
— پہاڑوں اور زمینوں کی سودا بازی
— عوامی وسائل کی بندربانٹ
— تباہ حال سڑکیں
— نہ معیاری ہسپتال، نہ یونیورسٹی
— عوام کو چند نوکریوں کے عوض ووٹ بینک بنا دیا گیا
جبکہ شیر نادر شاہی وہ رہنما ہیں جن کے لیے اسمبلی کی کرسی یا اقتدار کی چمک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی اہمیت قوم کے وقار، حقوق اور مستقبل کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھی گلگت بلتستان کے حقوق کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔
اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ، باوقار اور بااختیار مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم روایتی چہروں کے پیچھے چلیں گے یا ایک حقیقی اور باکردار رہنما کا ساتھ دیں گے۔
آئیں، اس بار ووٹ صرف نشان کو نہیں بلکہ قربانی، جدوجہد اور سچ کو دیں۔
آئیں، آنے والے انتخابات میں شیر نادر شاہی کو ووٹ دے کر انہیں موقع دیں—کیونکہ یہی ان کا حق ہے، اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔
03/11/2025
Sharjeel Khan 🌸
A Student of DJ High School Gojalti 🫠❤️
اس پیسے لوٹنے والی کمپنی کا بائیکاٹ اب واجب ہوگیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit