Shahkhalid
Assalam Walekum Welcome Shah Khalid Facebook official channel. love breaking down complex issues in simple words.
Learning, Awareness and Education is the purpose of this channel
28/03/2026
دل کو سکون تب ملتا ہے جب قدم مدینے کی سرزمین کو چھو لیتے ہیں، اور نظر جب گنبدِ خضراء پر پڑتی ہے تو روح جیسے خاموشی سے دعا بن جاتی ہے۔
یہاں ہر لمحہ ایک عبادت ہے، ہر سانس میں محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو بسی ہوئی ہے.
07/02/2026
Simple 🍁
23/11/2025
غزل
خونخواره ده خونخواره ده خونخواره ده ما خوري
دا نن شپه خو چيچل کوي ښاماره ده ما خوري
څه نوې حادثه ده چې تياره ده ما خوري
بلا ده او زما خوا ته حيساره ده ما خوري
احساس د چا د سترګو د نشتوالي مې سکونډي
سپوږمئ مې په سر سمه څوکيداره ده ما خوري
زما د بربادئ د سبب مه ګورئ دليل
که هر څه دي خو لوبه له دې ښاره ده ما خوري
تاريخ ليکي په ځان پسې او جنګ ګټي په ما
ګيله مې د دې دور له باداره ده ما خوري
د لاس د صفايئ د هنر نه لري مثال
زما د سر قاتل سره يې لاره ده ما خوري
اقباله پښې مې ايښې په مرئ د بغاوت
جزبه د خاموشئ مې له انګاره ده ما خوري
اقبال ،مومند،
15/09/2025
کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں اس دنیا کے ہنگاموں سے دور جنگل میں اک چھوٹا سا لکڑیوں کا گھر بناؤں جہاں اس جدید دنیا کی کوئی آسائش نہ ہو نا موبائل نہ کمپیوٹر نہ ٹی وی ۔۔۔۔اس چھوٹے سے گھر میں رہوں اور ایک گائے اور کچھ بکریاں پالوں جنہیں صبح ہوتے ہی چراگاہ میں چھوڑ دوں اور گائے کا دودھ مکھن ہو اور سادہ روٹی ہو۔ ۔۔۔میں کتابیں پڑھا کروں نئی نظمیں لکھا کروں ۔ چاند کے نیچے کھلے آسمان تلے میں بانسری بجایا کروں ۔۔۔جنگل کے جانور میرےاس پاس گھومتے رہیں۔۔۔۔میں جنگل کی خاموشی کا شور سنوں ۔۔۔۔جگنووں کے پیچھے بھاگا کروں ۔۔۔ہد ہد بلبل ہمیں گیت سنائے ۔۔۔۔جب بہت تیز بارش ہو تو میں اپنے چھوٹے سے گھر کا آنگن کھول دوں۔ بھیگتے ہوئے جانوروں کو پناہ دوں ۔۔۔
دنیا مجھ سے بے خبر ہو اور میں دنیا کی فکروں سے آزاد ہوں ۔۔۔کاش یہ تخیل سچ ہو جاتے ۔
10/09/2025
ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ انکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے
بس اپنے واسطے ہی فکرمند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے
پروں کو کاٹ دیا ہے اڑان سے پہلے
یہ خوف ہجر ہے شوقِ وصال تھوڑی ہے
مزہ تو تب ہے کہ ہار کر بھی ہنستے رہو
ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے
لگانی پڑتی ہے ڈبکی ابھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال تھوڑی ہے
پروین شاکر
Some where in Meeral
دیر اپر کا زخم، سکائی لینڈ کا درد
1980
انیس سو اسّی سے آج تک ہمارے علاقے بڈالی اور ماتاڑ میں دشمنی اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سال سے زیادہ گزر گئے لیکن یہ خونی کھیل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اب تک دو سے تین سو لوگ اس دشمنی کی نذر ہو چکے ہیں، سینکڑوں زخمی ہو گئے، اور نہ جانے کتنے گھر اُجڑ گئے۔
یہ خون خرابہ صرف چند خاندانوں کا نقصان نہیں بلکہ پورے علاقے کی بربادی ہے۔ ہر شہید ایک ماں کی ممتا چھین گیا، ہر زخمی ایک خاندان کے خواب توڑ گیا۔
دنیا ترقی کر رہی ہے، سیاحت کو بڑھا رہی ہے، کھیلوں کو فروغ دے رہی ہے۔ لیکن ہمارا سکائی لینڈ، جو سیاحت کے لیے جنت ہو سکتا تھا، آج بھی بارود اور بندوق کے سائے میں دب گیا ہے۔ یہاں پہاڑ، جھیلیں اور سبز وادیاں ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہیں، لیکن ہم نے اپنی سرزمین کو دشمنیوں سے برباد کر دیا۔
امن ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ امن ہو تو تعلیم بھی ہے، روزگار بھی ہے، ترقی بھی ہے، اور سیاحت بھی ہے۔ امن ہو تو کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں، نوجوان اپنی توانائی مثبت راستوں پر لگاتے ہیں، اور علاقے میں خوشحالی آتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن اب تک امن قائم کیوں نہیں کر سکی؟ کیوں یہ دشمنی ختم نہیں ہوئی؟ آخر کب تک ہمارے لوگ اسی طرح مرتے رہیں گے اور ادارے صرف دعوے کرتے رہیں گے؟
اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر امن کے لیے آواز بلند کریں۔ دشمنیوں کو بھلا کر بھائی چارہ اپنائیں۔ اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
✍️ امن ہی بقا ہے، امن ہی خوشحالی ہے، اور امن ہی سکائی لینڈ کی اصل خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لا سکتا ہے۔
ماتاڑ بڈالی تنازعہ
ضلعی انتظامیہ ،قومی او سیاسی مشران کی ناکامی ہے۔
ریاست نام کا کوئی چیز نہیں بھاری اسلحے سے عام آبادیوں پر بلا امتیاز فائرنگ جاری۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ کمپیوٹر ماؤس بھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر سکے۔ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں بلکہ ہمارے نظام کی حقیقت ہے۔
آئی ٹی وہ شعبہ ہے جس پر آج دنیا کی معیشت کھڑی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ممالک صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں اس اہم وزارت کو ایسے لوگوں کے حوالے کیا گیا ہے جنہیں کمپیوٹر کے بنیادی استعمال کی بھی سمجھ نہیں۔
یہ سوال صرف ایک وزیر کی کمزوری کا نہیں، یہ پورے سسٹم کی ناکامی ہے۔ جب پالیسی بنانے والے ہی ماہر نہ ہوں تو ترقی کیسے ہوگی؟ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں اپنی محنت سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کی رہنمائی اور سہولت کے بجائے انہیں مایوسی دے رہی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ملک میں فیصلے قابلیت، علم اور تجربے کی بنیاد پر ہوں، نہ کہ صرف سیاسی وابستگی پر۔ اگر ہم نے واقعی پاکستان کو آئی ٹی کی دنیا میں آگے لے جانا ہے تو ہمیں ایسے لیڈر چاہئیں جو خود ٹیکنالوجی کو سمجھیں، اس کے ساتھ چلیں اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دیں۔
یہ وائرل ویڈیو ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے سبق سیکھیں گے یا ہمیشہ کی طرح صرف مذاق بنا کر آگے بڑھ جائیں گے؟
شکایتی نوٹس برائے دکاندار، فوڈ اتھارٹی اور مقامی
انتظامیہ ہمارے ایک دوست نے واڑی بازار ضلع دیر اپر سے گندم/آٹا خریدا ہے، وہ انتہائی غیر صحت مند حالت میں ہے۔ اس آٹے میں کیڑے، ذرات اور گندگی موجود ہے، جو براہِ راست عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ صورتحال حکومتِ پاکستان اور خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کے بنائے گئے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دکاندار کی ذمہ داری:
ایسا غیر معیاری اور مضر صحت آٹا فروخت کرنا نہ صرف عوام کے ساتھ دھوکہ ہے بلکہ یہ ایک سنگین جرم بھی ہے۔ عوام اپنی محنت کی کمائی سے صاف اور معیاری خوراک خریدتے ہیں، لیکن انہیں بیماری پھیلانے والا آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔
فوڈ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کی غفلت:
فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ دیر اپر) کی یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بازاروں میں فروخت ہونے والی خوراک کی باقاعدہ چیکنگ کریں اور ناقص اشیاء کو عوام تک پہنچنے سے روکیں۔ لیکن ان کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آج لوگ بیماریاں خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہ ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہیں، جس کے باعث عوام براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
مطالبہ:
ہم ڈپٹی کمشنر دیر اپر، اسسٹنٹ کمشنر واڑی فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا اور مقامی پولیس سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
واڑی بازار کے ان دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو غیر معیاری اور مضر صحت گندم/آٹا فروخت کر رہے ہیں۔
فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
آئندہ کے لیے باقاعدہ چیکنگ کا نظام بنایا جائے تاکہ عوام کو معیاری خوراک میسر ہو سکے۔
عوامی صحت کے ساتھ یہ کھلا کھیل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دکانداروں کی لالچ اور فوڈ اتھارٹی و مقامی انتظامیہ کی غفلت نے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اس لیے فوری کارروائی ناگزیر ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Dir
18200