SYM tech
Builds fast, secure software for modern businesses. Services
• Custom software development
• Web applications
• Computer networking solutions
• CCTV systems
19/06/2026
زیادہ لمبی چوڑی بات نہیں کرتا، سیدھی اور ٹو دی پوائنٹ بات کرتا ہوں کہ آن لائن کاروبار کیسے شروع کیا جاتا ہے اور ایک سٹور کس طرح بنایا جاتا ہے۔
سب سے پہلے ہمارے پاس ایک ایسی پروڈکٹ ہونی چاہیے جو کسی مسئلے کا حل ہو۔
ایسی چیز جس کی لوگوں کو واقعی ضرورت ہو، صرف “بیچنے” کے لیے چیز نہ ہو بلکہ کسی مسئلے کو حل کرتی ہو۔
اس کے بعد ہمیں اپنے کسٹمر کا پتہ ہونا چاہیے۔
ہم کس کو یہ چیز بیچ رہے ہیں؟
وہ کہاں رہتا ہے؟
اس کی ضروریات کیا ہیں؟
وہ کس قسم کی چیزیں پسند کرتا ہے؟
اس کی پوری سمجھ ہونی چاہیے۔
جب ہم اپنی پروڈکٹ اور اپنے کسٹمر کو سمجھ لیتے ہیں، تو پھر اگلا مرحلہ آتا ہے اس چیز کو آن لائن فروخت کرنے کا۔
اور آن لائن فروخت کئی طریقوں سے ہو سکتی ہے۔
اپنی ویب سائٹ کے ذریعے، واٹس ایپ کے ذریعے، فیس بک کے ذریعے، انسٹاگرام کے ذریعے، چینلز کے ذریعے، اشتہارات کے ذریعے، یا کسی بھی ایسے طریقے سے جہاں آپ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی چیز لوگوں تک پہنچا رہے ہوں۔
یہی اصل میں آن لائن کاروبار ہے۔
کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، نہ ہی کوئی بہت پیچیدہ چیز ہے۔
میں آپ کو بہت آسان الفاظ میں سمجھا رہا ہوں کہ پورا نظام صرف تین چیزوں پر کھڑا ہوتا ہے:
پہلی چیز: ایک اچھی اور مسئلہ حل کرنے والی پروڈکٹ۔
دوسری چیز: اپنے صحیح کسٹمر کی سمجھ۔
تیسری چیز: صحیح ذریعہ جس کے ذریعے آپ اپنی چیز لوگوں تک پہنچائیں گے۔
یہی پوری بنیاد ہے۔
بعد میں جب آپ تفصیل میں جائیں گے تو اس میں بہت ساری چیزیں اور بھی شامل ہوں گی، لیکن اگر موٹے انداز میں دیکھا جائے تو آن لائن کاروبار انہی تین چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔
ان تینوں چیزوں کو سمجھیں، ان پر تحقیق کریں، ان پر گرفت مضبوط کریں، اور پھر آہستہ آہستہ آپ اپنا مضبوط آن لائن کاروبار بنا سکتے ہیں۔
07/06/2026
ایران کو یہ ضمانت دینا ہوگی کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار یا بم نہیں بنائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
آبنائے ہرمز فوری طور پر ہر قسم کی شپنگ کے لیے بغیر ٹول ٹیکس کھولی جائے، ٹرمپ
سمندری بارودی سرنگیں فوری ختم یا ناکارہ بنائی جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی بحری ناکہ بندی ختم، پھنسے ہوئے جہاز واپس روانہ ہو سکتے ہیں، ٹرمپ
افزودہ جوہری مواد امریکا اور آئی اے ای اے کی نگرانی میں تباہ کیا جائے گا، ٹرمپ
اس معاملے میں فی الحال کوئی رقم کا تبادلہ نہیں ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
صورتحال پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس کر رہا ہوں، ٹرمپ
زمین پر سورج کی پہلی کرن پڑی تھی ۔۔
جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی آنکھ کھلی۔
رات بھر نیند نہیں آئی تھی۔
تین راتوں سے یہی خواب آرہا تھا وہی منظر ،
وہی آواز، وہی حکم۔
اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے،
یہ وہ جانتے تھے۔ دل پر ایک بوجھ تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اپنے بیٹے کی طرف چلے اسماعیل، جن کا ہر قدم ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھا۔ وہ بیٹا جسے بڑھاپے میں پایا تھا، جس کے لیے دعائیں مانگتے مانگتے عمر گزری تھی، جس کی ایک مسکراہٹ پر دنیا کی ہر خوشی قربان کر سکتے تھے۔
اسماعیل علیہ السلام صبح کی ہوا میں بیٹھے تھے، چہرے پر سکون تھا، جیسے آنے والے طوفان سے بے خبر ہوں۔ ابراہیم علیہ السلام نے قریب بیٹھ کر کہا: " بیٹے... میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔" ایک لمحے کے لیے ہوا بھی رک گئی۔ اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد کی آنکھوں میں جھانکا ۔ وہ آنکھیں جو ساری عمر محبت سے بھری رہی تھیں، آج درد سے لبریز تھیں۔ اور اس نوجوان بیٹے نے ۔ جس کی رگوں میں نبوت کا خون دوڑ رہا تھا ۔
ایک پل بھی نہ ڈگمگایا۔
اباجی ...
جو حکم ہوا ہے، کر گزریں۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔
" یہ جملہ قرآن نے محفوظ کر لیا - ابد تک کے لیے۔
باپ اور بیٹا چل پڑے ۔ راستے میں شیطان آیا، ابراہیم کے دل میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے کنکریاں مار کر اسے بھگایا ۔
اور یہ رسم آج بھی قیامت تک دہرائی جاتی رہے گی۔
منا کی زمین پر پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام رک گئے۔ چھری ہاتھ میں تھی، سامنے ان کا جگر گوشہ تھا۔
اسماعیل علیہ السلام نے خود کہا:
اباجی ... ایک گزارش ہے۔ مجھے سیدھا لٹا کر ذبح نہ کریں۔
" باپ نے حیران ہو کر پوچھا: "کیوں بیٹے ؟" " کیونکہ ہو سکتا ہے جب آپ میرا چہرہ دیکھیں تو چھری نہ چلا سکیں۔
میں نہیں چاہتا کہ اللہ کا حکم میری وجہ سے رکے۔ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مجھے الٹالٹا لیں،
اور میرے ہاتھ پیر باندھ لیں۔"
" ہاتھ پیر کیوں باندھوں ؟"
ا باجی ، موت کے وقت تڑپ ہوتی ہے۔ جسم کا نپتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ہاتھ پاؤں حرکت کریں اور آپ کو تکلیف ہو، یا میں اللہ کے نبی کی بے ادبی کا سبب بنوں۔ بس مجھے باندھ لیں ۔
اور بسم اللہ پڑھ کر چلا دیں۔" اس لمحے ابراہیم علیہ السلام کے آنسو نہیں رکے۔ وہ باپ جن کا دل پتھر نہیں بلکہ خلیل اللہ کا دل تھا ٹوٹ گئے اندر سے۔
لیکن اللہ کا حکم تھا۔ انہوں نے بیٹے کو باندھا ۔
ان ہاتھوں سے جن سے ہمیشہ اسے گلے لگایا تھا۔ آنکھوں پر پٹی باندھ لی ۔ اپنی بھی بیٹے کی بھی شاید۔ اور پھر ...
چھری گردن پر چلادی۔ آسمان خاموش تھا۔
فرشتے سانس روکے دیکھ رہے تھے۔ جنت کے دروازے پر ہلچل تھی۔ اور پھر آواز آئی ۔ اللہ رب العزت کی طرف سے ، آسمان سے : " یا ابراہیم !
اے ابراہیم - رک جاؤ ! " جیسے کوئی پیچھے سے پکارے اور آدمی ٹھہر جائے۔ قد صدقت الرُّؤْيا - آپ نے تو خواب سچ کر دکھایا !
" اللہ نے خود گواہی دی کہ یہ بندہ سچا ہے، یہ محبت سچی ہے، یہ وفا سچی ہے۔ چھری چل چکی تھی لیکن اللہ نے اپنی قدرت سے اسے روک لیا۔
وہ جو چاہے کر سکتا ہے ۔ اس نے بیٹے کو بچالیا۔
ابراہیم علیہ السلام نے آنکھیں کھولیں۔
اسماعیل علیہ السلام کچھ قدم دور کھڑے تھے ۔ مسکراتے ہوئے، آنکھوں میں نمی لیے۔
اور نیچے ، ان کی جگہ ، جنت سے بھیجا گیا ایک دنبہ ذبح ہوا پڑا تھا۔
اللہ نے فرمایا: و دینا بد نے عظیم اور ہم نے انہیں بچالیا، ایک عظیم قربانی دے کر ۔" اس لمحے ابراہیم علیہ السلام کے منہ سے نکلا:
" اللہ اکبر ! " اللہ سب سے بڑا ہے ۔ میری محبت سے بھی، میرے درد سے بھی، میری آزمائش سے بھی۔ اسماعیل علیہ السلام نے سنا تو وہ بھی پکارے : " اللہ اکبر ! "
جبریل امین جو آسمان سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔
وہ بھی نہ رہ سکے :
"لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ! " اور تب ابراہیم خلیل نے آخری بار پکارا :
" اللہ اکبر والله اكبر ولله الحمد !
" اللہ کو یہ لمحہ اتنا پیارا لگا کہ اس نے حکم دیا ۔ قیامت تک ،
*ذوالحج کی نویں فجر سے تیرہویں عصر تک، میرے ہر بندے کی زبان پر یہی* *کلمات رہیں۔*
آج بھی جب دنیا بھر میں لاکھوں حاجی اور عام مسلمان یہ تکبیریں پڑھتے ہیں وہ دراصل اس لمحے کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا:
إِنَّ هَذَا لَهُوَ البلاء المبین
بے شک یہ کھلی آزمائش تھی۔ " سوچیں ۔
آزمائش لینے والا خود کہہ رہا ہے کہ یہ آزمائش بڑی تھی۔
اور آزمائے جانے والے نے اسے سچ کر دکھایا۔ تب ابراہیم علیہ السلام کی شان کتنی بلند ہے ؟ وتركنا عليه في الآخرين -
اور ہم نے ان کا ذکر آنے والوں کے لیے چھوڑ دیا۔" آج ہر قربانی انہی کی یاد ہے۔ ہر عید انہی کا صدقہ ہے۔ ہر تکبیر انہی کی گونج ہے۔
یہ صرف ایک باپ اور بیٹے کی کہانی نہیں ۔
یہ اس سوال کا جواب ہے کہ *محبت کیا ہوتی ہے* جب اللہ کے سامنے رکھی جائے۔
یہ اس سبق کی تعلیم ہے کہ
*وفا کیسے نبھائی جاتی ہے*
جب سب کچھ داؤ پر ہو۔ اور یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جو اللہ کے لیے چھوڑے، اللہ اسے واپس بھی کرتا ہے ۔
اور اجر بھی دیتا ہے ۔ اور ذکر بھی چھوڑتا ہے۔
ابد تک کے لیے۔
اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر اللہ اکبر ، والله الحمد
یوم عرفہ سال میں ایک بار آتا ہے۔
ایک بار ۔
بارہ مہینوں میں صرف ایک دن۔
اور اس ایک دن میں اللہ کی رحمت کا ایسا طوفان آتا ہے جو سال کے کسی اور دن نہیں آتا۔
حتی کہ رمضان کی راتیں جتنی فضیلت رکھتی ہیں ، اس دن کی فضیلت ان سب سے بڑھ کر ہے
جب بات جہنم سے آزادی کی ہو تو یہ ایک دن یہ چوبیس گھنٹے ،
یہ سورج کے طلوع سے غروب تک کا وقت ،
یہ آپ کی پوری آخرت بدل سکتا ہے۔
ایک دن کی سچی توبہ ، ایک دن کی سچی دعا،
ایک دن کا سچارونا، اور اللہ آپ کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔
سلف صالحین اپنی دعائیں یوم عرفہ کے لیے سنبھال کر رکھتے تھے اور کہا کرتے تھے کوئی ایسی دعا نہیں جو ہم نے اس دن مانگی اور قبول نہ ہوئی ہو۔🫀
السلام علیکم ...!
آج 9 ذوالحجہ یوم عرفہ ہے
👇👇👇
1. یومِ عرفہ کی سب سے افضل دعا (ذکرِ توحید)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور بہترین بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے کے انبیاء نے کہی، وہ یہ ہے:"
{لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}
ترجمہ: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔" (جامع ترمذی)
2. سید الاستغفار (گناہوں کی معافی کے لیے)
چونکہ عرفہ کا دن جہنم سے آزادی اور گناہوں کی مغفرت کا دن ہے، اس لیے سید الاستغفار پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے:
{اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ،}
{أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ}
ترجمہ: "اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے سامنے تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، پس مجھے معاف کر دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔" (صحیح بخاری)
3. تکبیراتِ تشریق
9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) کی فجر کی نماز سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر کی نماز تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے (خواتین آہستہ آواز میں) یہ تکبیرات کہنا واجب ہے:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
4. کثرتِ استغفار اور توبہ
حدیثِ مبارکہ کے مطابق عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ اس لیے اس دن کسی بھی زبان میں کثرت سے توبہ و استغفار کرنا، جیسے:
أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ (میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں)۔
القرآن کریم
سورہ یس آیت 46
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَ مَا تَاۡتِیۡهِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِیۡنَ
اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آتی جس سے وہ منہ نہ موڑ لیتے ہوں
صحیح بخاری ( 5513 ) جلدنمبر 5
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے یا زندہ جانور کو باندھ کر اس پر تیر اندازی یا نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا
9 ذوالحجۃ کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجۃ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق پڑھنا واجب ہے۔
مرد و عورت سب اس عظیم شعارِ اسلام کا اہتمام کریں، اپنے گھروں، مسجدوں اور ماحول کو اللہ اکبر کی صداؤں سے معطر کریں۔
تکبیراتِ تشریق:
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شعائرِ اسلام کی عظمت دل میں بسانے اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the university
Telephone
Website
Address
Chiniot