Abdullah
پخیرراغلے ❤
ذوالحجہ کا نوواں دن، یعنی یومِ عرفہ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظمت والا دن ہے۔ جو مسلمان حج پر نہیں ہیں، ان کے لیے اس دن روزہ رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"
(صحیح مسلم: 1162)
یہ دن دعا، استغفار، ذکر اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔
آئیں اس مبارک دن کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ روزہ رکھ کر، دل سے دعائیں مانگ کر اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔
🤲 اللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا
#روزہ #اسلام
08/04/2026
الحمدللہ ثم الحمدللہ 🤲🇵🇰
آج ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے
یہ سب اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان آج دنیا میں عزت، وقار اور کامیابی کی نئی مثال بن رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، آرمی چیف عاصم منیر کی جرات و بہادری، اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی بہترین سفارتکاری نے ملک کو ایک نئی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور پرامن قوم ہے 💚
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، آمین 🤲✨
پاکستان زندہ باد 🇵🇰❤️
بچپن میں عید کا مطلب نئے کپڑے، جوتے، عیدی اور خوشیوں کی چہل پہل ہوا کرتا تھا۔ اس وقت انسان کی خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے جڑی ہوتی ہے، اور اسے یہی لگتا ہے کہ عید کی اصل خوبصورتی نئے لباس اور میٹھی چیزوں میں ہے۔ ہر بچہ انہی چیزوں کا انتظار کرتا ہے اور اسی میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتا ہے۔
مگر جب انسان بڑا ہو جاتا ہے تو عید کے معنی آہستہ آہستہ بدلنے لگتے ہیں۔ اب خوشی کا تعلق صرف نئے کپڑوں یا ظاہری چیزوں سے نہیں رہتا، بلکہ دل ان لوگوں کو ڈھونڈتا ہے جو کبھی عید کی رونق ہوا کرتے تھے۔ وہ عزیز جو اب ساتھ نہیں رہے، یا وہ لوگ جو وقت اور فاصلے کی وجہ سے دور ہو گئے، ان کی کمی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایسے لمحوں میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل خوشی چیزوں میں نہیں بلکہ اپنوں کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ ہنسی ملاقاتیں ایک ساتھ بیٹھنا اور محبت بھرے لمحے ہی عید کو واقعی خوبصورت بناتے ہیں۔ جب یہی لوگ پاس نہ ہوں تو نئے کپڑے بھی کبھی کبھی وہ خوشی نہیں دے پاتے جو پہلے ملا کرتی تھی۔ اسی لیے بڑے ہونے کے بعد عید کا سب سے بڑا احساس یہی ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت رشتے اور اپنے لوگ ہیں ۔ جب وہ ساتھ ہوں تو ہر دن عید جیسا لگتا ہیں، اور جب ان کی کمی ہو تو عید بھی کچھ ادھوری سی محسوس ہوتی ہے
پاکستان میں عید کا چاند نظر نہیں آیا
عید ہفتہ کو ہوگی
ہماری مسجد کے مؤذن کی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآن سن کر دل کو عجیب سکون ملتا ہے۔ تراویح میں جب قرآن ٹھہر ٹھہر کر، تجوید اور احترام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو اس کی تاثیر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اسے آہستگی اور ٹھہراؤ کے ساتھ پڑھا جائے:
"وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا"
(اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)
— (سورۃ المزمل: 4)
افسوس کہ بعض جگہ تراویح میں قرآن اتنی جلدی پڑھا جاتا ہے کہ سننے اور سمجھنے کا حق ادا نہیں ہو پاتا۔ حالانکہ اصل خوبصورتی یہی ہے کہ قرآن کو سکون، احترام اور ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ دل بھی متاثر ہوں اور روح بھی سیراب ہو۔
اللہ ہمیں قرآن کو صحیح انداز میں پڑھنے، سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
چار مہینے ہو گئے ہیں یہاں آئے ہوئے…
دل میں ایک خواہش بار بار جاگتی ہے کہ کاش مدینہ منورہ کی حاضری نصیب ہو جائے۔ دو مرتبہ عمرہ کی سعادت ملی، اس پر اللہ کا بے حد شکر ہے، مگر دل میں ایک کمی سی رہ جاتی ہے… وہ کمی روضۂ رسول ﷺ کے دیدار کی ہے۔
پتا نہیں وہ لمحہ کب آئے گا جب قسمت مجھے بھی مدینہ کی گلیوں تک لے جائے گی، جب آنکھیں مسجد نبوی کو دیکھیں گی اور دل سکون سے بھر جائے گا۔
یا اللہ! جس طرح تو نے اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائی، اسی طرح اپنے محبوب ﷺ کے شہر مدینہ کی حاضری بھی جلد نصیب فرما دے۔
بے شک جسے تو بلائے، وہی مدینہ پہنچتا ہے۔
یا رب! ہمیں بھی بلا لے مدینہ… 🤲🕊️
10/03/2026
رمضان کے آخری عشرے کی بابرکت راتیں شروع ہو چکی ہیں، اور الحمدللہ ہم نے یہاں سعودی عرب میں کل سے 12:30 پر قیامُ اللیل کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ وہ خاص لمحے ہوتے ہیں جب بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر دعا، تلاوت اور استغفار کے ذریعے دل کو سکون دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ان راتوں کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
“جب رمضان کے آخری دس دن آتے تو رسول اللہ ﷺ خود بھی راتوں کو زیادہ عبادت کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں بہت زیادہ کوشش فرماتے۔”
(صحیح بخاری)
یہی وہ راتیں ہیں جن میں لیلۃ القدر بھی پوشیدہ ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اسی لیے اہلِ ایمان ان راتوں میں قیامُ اللیل، دعا، قرآن کی تلاوت اور استغفار کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان بابرکت راتوں کی قدر کرنے، قیامُ اللیل کرنے اور اپنی رحمت و مغفرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
پیشمنی تہ مو سوک راپاسیئ؟
1.مور 2.خزہ 3. کورنے چرگ 4. الارم 5. دہ مُلا صیب آواز
6. ریٹائر ترہ
دمام سے مکہ عمرہ کے سفر میں کچھ لوگ ہمارے ساتھ تھے جو بالکل اجنبی تھے۔ لیکن اللہ کے گھر کی طرف بڑھتے ہوئے باتوں اور مسکراہٹوں میں ایسا وقت گزرا کہ وہ اجنبی بھی اپنے لگنے لگے۔ کبھی کبھی سفر صرف منزل تک نہیں لے جاتا بلکہ دلوں میں خوبصورت یادیں بھی چھوڑ جاتا ہے۔
اپنے ہوٹل سے حرم شریف کی طرف جاتے ہوئے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.