True relation
its all about professional life with golden words
01/08/2024
15/09/2022
"عشق کے اسیر"
بابا اشفاق احمد اور آپا بانو قدسیہ جب ایک دوسرے کی زوجیت میں بندھ گئے تب سے لیکر بابا کے انتقال یعنی جب تک دونوں حیات رہے ایک دوسرے کے سچے رفیق اور ساتھی رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کی ضرورت تھے۔
ایک قدامت پسند بلکہ قدامت پرست بابا نے اپنی زوجہ کو پوری آزادی دے رکھی تھی کہ وہ جس سے چاہے ملے، جیسا چاہے پہنے اور جو سمجھ آئے لکھے۔ ہمیشہ بانو قدسیہ صاحبہ کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
ایک پڑھی لکھی، زمانے کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی عزم رکھنے والی بانو قدسیہ بھی اشفاق احمد کی اسیر رہیں مگر وہ جانتی تھی کہ اس دیو قامت شخصیت والے بابا کو کیسے اپنا داس بنائے رکھنا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ ایک دفعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک ادبی محفل کے اختتام پر جب لوگ اٹھ کر جانے لگے، میں اور بانو آپا باتیں کرتے آگے آگے چلتے ہوئے صدر دروازے تک پہنچ گئے۔ دہلیز پر پہنچ کر آپا رک گئی اور مڑ کر اشفاق صاحب کو دیکھنے لگی۔ میں نے بانو آپا سے کہا "آپا چلیں۔"
وہ بولیں کہ "خان صاحب مصروف ہیں۔ وہ پہلے نکلیں گے، پھر میں۔"
یہ سن کر میں نے کہا:
"آپا پلیز!!"
وہ دھیرے سے مسکرائیں اور شفقت سے بولیں۔
"مستنصر کبھی کوئی ڈبہ، انجن سے آگے نکلا ہے؟ پہلے وہ انجن جائے گا پھر یہ گاڑی اس کے پیچھے چلے گی۔"
2017ء کو بانو قدسیہ اشفاق بابا سے ہجر کے 12 سالوں بعد مٹھی تلے ملنے پہنچی تو اپنا مرقد اپنے داس کے پیروں میں بنوایا۔ قبر کی یہ جگہ اُن اسیرہ کی باقاعدہ وصیت تھی، آخری خواہش تھی جس کو انہوں نے اپنے سچے محبت کے اظہار پر خرچ کردیا حالانکہ اسیر کی دیکھنے والی آنکھیں بہت پہلے بند ہوچکی تھیں۔
مستنصر حسین تارڑ
04/02/2022
اگر میں سنانے لگ جاؤں اپنی جوانی کے قصے
یہ آج کل کے لُونڈے میرے پاؤں دبانے لگ جائیں" ۔
آج کے میچ میں شاہد آفریدی کو 67 رنز کیا پڑگئے مخالیفین کی عید ہوگئی سوشل میڈیا پر تنقید جاری لوگ مذاق اڑا رہے ہیں ارے قدر کرو اپنے ہیرو کی شاہد آفریدی جیسے ہیرے صدیوں بعد ملتے ہیں شاید مجھ سمیت بہت سے ایسے لوگ ہونگے جنہوں آفریدی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ دیکھنا شروع کی ہوگی آج بھی ہر تیسرے بندے سے سننا پڑ رہا ہے کہ میں اب کرکٹ نہیں دیکھتا کیوں کیونکہ لالا نہیں ہے یہ وہ ہی کھلاڑی ہے جس کے سامنے دنیا کے خطرناک ترین بولرز کے اوسان خطا ہوجاتے تھے لالا واحد ایسے بلے باز تھے کہ اس سے پہلے کتنا ہی بڑا کھلاڑی کیوں نا ہوتا لوگ اسکے آوٹ ہونے کی دعائیں مانگتے تاکہ آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے کو ملے یہ وہ ہی کھلاڑی ہے جن کے آوٹ ہونے پر بھرے سٹیڈیم خالی ہوجاتے تھے لیکن سہی بات ہے ہم اپنے ہیروز کی قدر جانتے کہاں ہے
( ) ❤️
کچھ دن پہلے ٹی وی پر چائے کا اشتہار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
صرف چائے، صرف اشتہار
اشتہار میں پوشیدہ انتہائی گہرے مطلب پر غور کریں۔
لڑکی کچن میں ہے، اچانک اس کا منگیتر دیوار پھلانگ کر اندر آتا ہے (محض چائے)۔
لڑکی بالکل مطمئن ہے۔ پوچھتی ہے۔ شادی تک انتظار بھی نہیں کر سکتے ؟ (صرف چائے کا اشتہار)
لڑکا نہایت ڈھٹائی سے۔ چائے کی یاد آرہی تھی۔
لڑکی چائے بناتی ہے اسے پلاتی ہے کچن میں۔
اب لڑکا واپس چپکے سے ان کے گھر سے نکلنے لگتا ہے۔ کہ سامنے لڑکی کے والدین کو پاتا ہے۔
نہ والدین حیران، نہ لڑکا لڑکی پریشان ؟
والدہ مسکراتے ہوئے - دیکھا ؟ میری بیٹی کا کمال ؟؟؟
والد غیرت مند محترم ۔ نہیں۔ سب چائے کا کمال۔۔۔۔۔۔
یاد رہے کہ یہ ہماری تہذیب، دین اور اقدار کی دھجیاں صرف اک چائے کے اشتہار میں اڑائی گئیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا اس افئیر دکھانے کے بغیر چائے کی ایڈورٹائزمنٹ ادھوری تھی ؟
ہمارا میڈیا ہمیں اور ہمارے معصوم ذہنوں کو کیا دکھا رہا ہے ؟ اب تو یہ سب کامن ہوگیا ہے۔ کیا ہوا، اشتہار ہی تو ہے۔
اور آج ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ بچے کیوں محفوظ نہیں، ہم سوچتے رہتے ہیں کہ اخلاقی اقدار کدھر گئے ۔
ڈرامے تو چھوڑیں، چائے، سوڈا، سرف، شیمپو، صابن، موبائل، بلیڈ، ملک پیک ہر چیز میں لڑکی کا جسم دکھانا، ناچنا گانا، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اقدار اور ہمارے کامل مکمل دین کی دھجیاں اڑانا بہت عام سی بات ہے۔۔۔
ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟ ہے کوئی ان کو لگام ڈالنے والا ؟؟؟
خدا کے لئیے تھوڑا سوچو سمجھو مسلمانوں 😢🙏😢🙏
True telation
Click here to claim your Sponsored Listing.