MGG

MGG

Condividi

Società Di Media nelle vicinanze

Radio Radar Porretta
Radio Radar Porretta

My name is Tauqeer Baig. I’m from Kashmir (Pakistan) and now living in Italy. I write poetry and share my thoughts about the social issues .

Writing helps me express what I feel and what I see around me.

14/08/2026

اہلِ وطن

اے خاکِ وطن، آج ترے جشن کی شب ہے
پر دل میں کسی دور کے ماتم کی طلب ہے

آؤ کہ لہو سے جو چراغاں ہوا تھا
اُس نور کو ہر سمت اجالا بنا دیں۔

جو خواب شہیدوں نے امانت میں دیے تھے
اُن خوابوں کو تعبیر کا رستہ تو دکھا دیں۔

پھر جشن منائیں گے کہ آزادی امر ہے
پھر فخر کریں گے کہ یہ مٹی بھی مقدس ہے

جب بھوک سے مرتا ہوا انسان نہ ہوگا
جب خوف میں جیتا ہوا نوجوان نہ ہوگا

جب حق کو فقط نعرۂ فردا نہ کہیں گے
جب اپنے ہی لوگوں کو پرایا نہ کہیں گے۔

توقیر بیگ

11/08/2026

دنیا آج سے سو سال پہلے 👑 اور ہم آج بھی حق کی بات کرنے سے پہلے خود کے لیے کفن خریدتے ہیں 🥲
#کشمیر

09/08/2026

💔

27/07/2026

صبر 💔 ۔۔۔ اے خدا کہاں ہے تو ؟

اپنے سگے بھائی کی لاش اُٹھا کر بھی پرامن تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہے تیرا بندہ 🥲

Photos from MGG's post 26/07/2026

ا ڈنکی لگا کر جنتر منتر جانے والے پاکستانی
پاکستانی لوگ انڈین سٹوڈنٹس کی سپورٹ میں جنتر منتر جا کر احتجاج کرنا چاہتے تھے، مگر سوشل میڈیا پر انڈین کمنٹس کر رہے تھے کہ “کیسے آؤ گے؟ انڈیا تو پاکستانیوں کو ویزا ہی نہیں دیتا” مگر اُن بے چاروں کو کیا پتا تھا کہ پاکستانیوں کو تو باقی کئی ملک بھی آسانی سے ویزا نہیں دیتے۔ سو پاکستانیوں نے حسبِ روایت جگاڑ لگایا، ایک ایجنٹ پکڑا اور کہا کسی طرح ہمیں جنتر منتر کے احتجاج میں پہنچا دو۔
ایجنٹ نے کہا رات کے اندھیرے میں نکلنا پڑے گا۔ رات ہوئی سب گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ایجنٹ نے ہدایت دی اب سب اپنے فون بند کر دو۔
وہ فون بند ہی کر رہے تھے کہ ایک کے فون پر نوٹیفیکیشن آئی کہ وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مگر اُس نے نوٹیفیکیشن کھولنے سے پہلے ہی فون لاک کر دیا۔
خیر، رات کے اندھیرے میں جیسے تیسے ایجنٹ اُنہیں احتجاج والی جگہ لے آیا۔ وہاں پہنچے تو ہزاروں لوگ موجود تھے۔ موسم بھی خاصا خوشگوار تھا اور اردگرد کافی پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ یہ سب دیکھ کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے یار! پاکستانی میڈیا بھی کتنا جھوٹ بولتا ہے ۔ دہلی تو بالکل مختلف نکلی!
پھر ایک دوسرے کو یاد دلایا دیکھو، منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالنا ورنہ ایجنٹ بول کر سیدھا جیل میں ڈال دیں گے۔ اب سوچا کہ چند تصویریں بنا لیتے ہیں پاکستان جا کر انسٹاگرام پر لگائیں گے۔
جیسے ہی فون کھولا تو انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا۔ سب نے فوراً سوچا، ظالم مودی سرکار نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہوگا! اتنے میں ایک کی نظر اُس پرانی نوٹیفیکیشن پر پڑی۔ اُس نے دیکھا کہ وزیرِ تعلیم تو کئی گھنٹے پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں مگر یہاں لوگ ابھی تک احتجاج میں بیٹھے ہیں۔
اُس نے سوچا “بیچاروں کو انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے ابھی تک خبر ہی نہیں ملی!” بس پھر کیا تھا، خوشی کے مارے خود پر قابو نہ رکھ سکا اور زور زور سے چلانے لگا “مبارک ہو! مبارک ہو! آپ کی مانگیں پوری ہو گئیں وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے!”

آس پاس کھڑے لوگ حیران ہو کر اُس کی طرف دیکھنے لگے۔ شاہد پاگل ہے کوئی کون سا وزیر؟ اور یہ کیسی مانگ ؟ اور کس کی مانگ تھی ؟ جب وہ مسلسل یہی نعرہ لگاتا رہا تو ایک شخص اُس کے پاس آیا اور پوچھا ! بھائی، تم ہو کہاں سے؟
وہ بڑے معصوم انداز میں بولا “ ہم پاکستان سے رات کے اندھیرے میں آئے ہیں صرف آپ لوگوں کی سپورٹ کرنے کے لیے۔”
یہ سن کر وہاں موجود لوگوں نے آگے بڑھ کر اُنہیں گلے لگا لیا اور کہا: پچھلے چالیس دن سے جیسے ہی ہم نے احتجاج شروع کیا تھا انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ ہمیں تو باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے کچھ معلوم ہی نہیں۔ مگر ہمیں یقین تھا کہ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی ۔
توقیر بیگ

15/07/2026

توقیر اسیرِ زنداں کو دیکھا تو جھلک اپنی دیکھی اُنمیں
ہم جیسوں کے لیے بس حوالات بدل گے ہیں
اے زندگی اب ، تو بتا دے تیرا حق ادا ہو گیا ‘ دیکھ افوائیں چل رہی ہیں تیرے محصولات بدل گئے ہیں
#قیدآزادکشمیر

07/07/2026

ووٹ نہ دینے سے کچھ نہیں بدلے گا بلکہ ووٹ صحیح جگہ پر دینے سے بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک عجیب سی لہر دیکھ رہا ہوں۔ ہر دوسری پوسٹ میں لوگ اعلانات کر رہے ہیں کہ ہم نے لاتعلقی اختیار کر لی ہے ہم فلاں پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے یا سرے سے ووٹ ہی کاسٹ نہیں کریں گے۔ یہ سب دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ آخر اس بائیکاٹ سے عوام کو کیا فائدہ ملنے والا ہے؟
ہم اپنی ناسمجھی کو بائیکاٹ کا نام دے کر سمجھتے ہیں کہ شاید ہم سسٹم کو کوئی سزا دے رہے ہیں لیکن حقیقت میں ہم صرف اپنی آواز دبا رہے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کشمیر میں کوئی منیمم ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرط تو ہے نہیں کہ لوگ باہر نہیں نکلیں گے تو الیکشن دوبارہ ہو جائیں گے۔ سسٹم کو آپ کے اس خاموش احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ سو میں سے اگر صرف بیس لوگ بھی ووٹ ڈالیں گے تو کوئی نہ کوئی جیت کر اسمبلی پہنچ ہی جائے گا۔ پھر رونا کیسا کہ جہاں تین ہزار ووٹ لینے والا ایک تھا وہاں اب سارے ہی ایسے آ جائیں گے؟ اسمبلیاں کبھی خالی نہیں رہتیں بس وہاں وہ لوگ آ کر بیٹھ جائیں گے جنہیں آپ کی خاموشی جتوا دے گی ( جو یہی لوگ ہوں گے جن سے آپ تنگ آہ چُکے ہیں )۔

ہم شاید اس ووٹ کے حق کو بہت ہلکا لے رہے ہیں یا اسے کسی سیاستدان کی ملکیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دنیا بھر میں لوگوں نے اس ایک حق کو پانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ ووٹ دراصل آپ کے پاس ایک امانت ہے، اس کی ویلیو کو پہچانیں اور اس کا صحیح استعمال سیکھیں۔ ووٹ نہ دینے سے کچھ نہیں بدلے گا بلکہ ووٹ صحیح جگہ پر دینے سے بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ ہمیں اب شخصیات کے سحر سے نکل کر پارٹی اور نظریے کو ووٹ دینا ہوگا۔ جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور کوئی ایک شخص اسمبلی میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا جب تک اس کی کوئی مضبوط سپورٹ نہ ہو۔
اگر آپ آج کے حالات سے یا موجودہ لیڈرز سے ناخوش ہیں تو گھر بیٹھ جانا اس کا حل نہیں ہے۔ ایک نیریٹو بنائیں۔ اپنی ڈیمانڈ سامنے رکھیں کہ اگر پارٹی فلاں نااہل شخص کو ٹکٹ دے گی تو ہم اسے ووٹ نہیں دیں گے۔ اور اگر پارٹیاں پھر بھی آپ کو اگنور کرتی ہیں تو اپنے ہی حلقے سے کسی کو بھی آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا کر کے اسمبلی بھیج دیں۔ پھر دیکھیے گا اگلی بار کون آپ کی بات نہیں سنتا۔
ووٹ نہ دے کر ہم کسی سیاستدان کا کچھ نہیں بگاڑتے بس اپنے ساتھ اور جمہوریت کے ساتھ ایک بہت بڑی زیادتی کر جاتے ہیں۔
توقیر بیگ

07/07/2026

پاکستان کے عوام کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے حوالے سے جس 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کا تاثر دیا جا رہا ہے وہ دراصل محض ہندسوں کا ایک کھیل ہے۔ ہم کشمیریوں نے مطالبات کی کوئی نہ ختم ہونے والی فہرست پیش نہیں کی ہے اگر آپ اس فہرست کا بغور جائزہ لیں تو کل 38 میں سے اصل اور بنیادی مطالبات صرف 3 ہیں۔ جی ہاں، صرف 3 مطالبات سستا آٹا، اپنے ہی ڈیموں سے پیدا ہونے والی سستی بجلی(جو ہر پاکستانی صوبے کو حق حاصل ہے اور کشمیر تو قانونی طور پر الگ ریاست ہے ) اور اشرافیہ کی شاہانہ مراعات کا خاتمہ۔
باقی 35 نکات یا تو انہی تین باتوں کی تفصیل ہیں یا پھر وہ حکومت کی عام اور بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ مثال کے طور پر آٹے اور بجلی کے معاملے کو ہی ٹیکس کی چھوٹ، قانون سازی اور عمل درآمد کے نام پر کئی الگ الگ نکات میں بانٹ دیا گیا ہے۔
اسی طرح پینے کا صاف پانی، روزگار اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات، جو کسی بھی فلاحی ریاست کا اولین فرض ہوتی ہیں، انہیں بھی فہرست میں شامل کر کے تعداد کو بڑھایا گیا ہے۔
اس فہرست کے 38 تک پہنچنے کی ایک بڑی اور جذباتی وجہ 2025 احتجاج میں ہونے والا جانی نقصان ہے۔ جب پرامن عوام پر طاقت کا استعمال ہوا اور شہری شہید ہوئے، تو حالات کے دباؤ اور وقتی جذبات کے تحت اس چارٹر میں مزید چیزیں شامل کی گئیں۔ اس کا سب سے واضح ثبوت ڈیمانڈ نمبر 16 ہے۔
اس چارٹر میں ایک انتہائی اہم مطالبہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی اسمبلی نشستوں کے خاتمے کا ہے۔ پاکستانی عوام کو شاید اس کی اصل وجہ معلوم نہ ہو لیکن کشمیری یہ اس لیے نہیں مانگ رہے کہ انہیں مہاجرین سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نشستیں آزاد کشمیر کی حکومت کو کنٹرول کرنے کا ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہیں۔ یہ 12 سیٹیں دراصل ایک ایسا ریموٹ کنٹرول ہیں جس کے ذریعے جب چاہا آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کو گرا دیا جاتا ہے یا اپنی مرضی کی حکومت مسلط کر دی جاتی ہے۔
کشمیری عوام اب اس سیاسی جوڑ توڑ سے تنگ آ چکے ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان سیٹوں کا خاتمہ ہو تاکہ آزاد کشمیر میں بننے والی حکومتیں بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوں اور ان کے فیصلے عوام کو جواب دینے پر مبنی ہوں۔ ایکشن کمیٹی کی یہ پوری تحریک عام آدمی کے حقوق اور اپنے وسائل پر اختیار کی سچی جنگ ہے اور اسے ہندسوں کے کھیل میں الجھا کر مسترد کرنا کشمیریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ توقیر بیگ

03/07/2026

نرم خوابوں میں جو روتی ہیں یہ مخمل آنکھیں
ان کو کیا علم کہ مفلس کی سحر کیسی ہے؟

مریم نواز صاحبہ! آپ کہتی ہیں کہ ان معصوم بچوں کی اموات پر آپ کی راتیں کرب میں گزرتی ہیں ہم آپ کے اس دکھ کو سچ مان لیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جن ماؤں کی گود اجڑتی ہے ان کی راتیں کیسے گزرتی ہوں گی؟ آپ نے بڑی سادگی سے سارا ملبہ والدین کی تربیت اور لاپرواہی پر ڈال دیا مگر کیا واقعی دنیا کی کوئی ماں اپنے بچے کو مرنے کے لیے سڑک پر تنہا چھوڑ سکتی ہے؟ کیا یہ غفلت ہے یا وہ بے بسی جو بھوک اور مہنگائی نے ان کے مقدر میں لکھ دی ہے؟ جب ایک غریب باپ کی ساری کمائی صرف بجلی کے بلوں کی نذر ہو جائے تو کیا اس ماں کے پاس کوئی اور راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے کی خاطر انہیں گھر چھوڑ کر مزدوری پر نکل جائے؟ جب ریاست کسی کو عزت کی روٹی نہیں دے سکتی تو کیا اسے غریب کی مجبوری کو اس کی لاپرواہی کا نام دینے کا حق ہے؟؟؟

آخر یہ بچے نہروں اور موت کے کنوؤں کی طرف کیوں بھاگتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ جب ایوانوں میں بیٹھے لوگ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں ہوتے ہیں، اس وقت غریب کا بچہ حبس اور بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں جھلس رہا ہوتا ہے؟ جب ایک معاشرہ ان بچوں کو تفریح کے لیے محفوظ پبلک پولز اور ٹھنڈی چھت تک نہیں دے سکتا تو کیا ہمیں ان سے یہ حق بھی چھین لینا چاہیے کہ وہ گرمی سے بچنے کے لیے کسی جوہڑ یا نہر کا رخ کریں؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف تنبیہ کرنا ہے یا متبادل فراہم کرنا؟

آپ فرماتی ہیں کہ انتظامیہ گٹر پر ڈھکن لگاتی ہے اور رات کے اندھیرے میں کوئی چور اسے چرا لیتا ہے۔ مگر کیا ایک پوری ریاست اور اس کی طاقتور پولیس ایک کباڑیے اور لوہا چور کے سامنے اتنی بے بس ہو چکی ہے؟ اور کیا ہم لوہے کی جگہ پلاسٹک یا فائبر کے ایسے ڈھکن استعمال نہیں کر سکتے جنہیں کوئی چور کباڑ میں بیچ ہی نہ سکے۔
اقتدار اور حکمرانی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا کرسی پر بیٹھ کر ان مظلوموں کو لیکچر دینا جن کے پاس جینے کی بنیادی سہولیات تک نہیں یا ان کے لیے ایسے راستے بنانا جہاں ان کی جان محفوظ رہ سکے؟ دکھ کا اظہار کرنا اور الزام تراشی کرنا بہت آسان ہے لیکن مریم صاحبہ، ریاست کا کام وعظ کرنا نہیں بلکہ ان غریبوں کے لیے وہ ڈھال بننا ہے جس کے لیے انہوں نے آپ کو اس منصب پر بٹھایا ہے۔
توقیر بیگ

01/07/2026

چراغ بجھ بھی جائے تو کیا ؟ اگر اس کی روشنی سے ہزاروں نئے چراغ روشن ہو چکے ہوں۔

Vuoi che la tua azienda sia il Società Di Media più quotato a Rome?
Clicca qui per richiedere la tua inserzione sponsorizzata.

Digitare

Sito Web

Indirizzo

Rome