Subhani Clothes

Subhani Clothes

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Subhani Clothes, Digital creator, .

21/03/2026

حضرت خواجہ محمد غلام فرید
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

حضرت قبلہ بابا جی رضوی مجددی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

سیدی و مرشدی حضور مفکر اسلام حضرت علامہ الشیخ محمد کریم سلطانی
دامت برکاتہم العالیہ

حضرت علامہ مولانا حافظ محمد سلیمان مصباحی
دامت برکاتہم العالیہ

19/03/2026
12/03/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

السلام عليكم ورحمه الله وبركاته.

آج 22 رمضان المبارک ہے
آج کے دن حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حسن رضا خان بریلوی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ہوا

🔘نسب
مولانا محمد حسن رضا خان
بن
مولانا مفتی محمد نقی علی خان
بن
مولانا محمد رضا علی خان

🔘 بھائی
اعلٰی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام محمد احمد رضا خان قادری بریلوی

🔘پیدائش
محمد حسن رضا خان صاحب 1 اکتوبر 1859ء مطابق ربیع الاول 1276 ہجری کو دہلی میں پیدا ہوئے

🔘 تعلیم و بیعت و خلافت
مولانا محمد حسن رضا خان نے حضرت قطب الارشاد سراج اولیاء سید ابو الحسن حسین احمد نوری قادری برکاتی کے دست حق پرست پر بیعت کی اور سند خلافت حاصل کی۔ نعت گوئی میں آپ کے استاد مولانا احمد رضا خان جبکہ آپ شاعری میں داغ دہلوی سے بھی اصلاح لیتے رہے

🔘 وصال با کمال
22 رمضان 1326 ہجری کو 50 سال چھ ماہ کی عمر میں ان کا انتقال ہوا

🔘 آپ پیار و محبت سے ذوق و شوق سے الفت سے ایک مرتبہ سورہ فاتحہ تین مرتبہ سورہ اخلاص اول آخر درود شریف پڑھ کر حضرت کی روح کو ایصال کریں
اللہ تعالٰی آپ کا حامی و ناصر ہو 🤲🏻

✍🏻 Muhammad Jawad Subhani

11/03/2026

📖کلام اعلٰی حضرت
الشاہ امام محمد احمد رضا خان قادری بریلوی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
🎤 حضرت قبلہ بابا جی رضوی مجددی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

مُرتَضیٰ شیرِ حق اَشجع الاشجَعیں
ساقیِ شِیر و شربت پہ لاکھوں سلام

اصلِ نسلِ صفا وجہِ وَصلِ خدا
بابِ فصلِ وِلایت پہ لاکھوں سلام

شیرِ شمشیر زَن شاہِ خَیبر شِکَن
پَرتَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

ماحیِ رفض و تَفْضِیل و نَصب و خُروج
حامیِ دین و سنت پہ لاکھوں سلام

10/03/2026

فتح مکہ
🎤 قبلہ سیدی بابا جی رضوی مجددی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

فتح مکہ (جسے فتح عظیم بھی کہا جاتا ہے)[1] عہد نبوی کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا،

سورة سبأ، الآية: 49
سورة الإٍسراء، الآية: 81
السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام

03/02/2024
04/01/2024

ذکر قلبی


ذکر اللہ خواہ قلبی ہو یا زبانی انفرادی ہو خواہ اجتماعی، اسکی فضیلت و اہمیت مسلم ہے۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ذکرِ قلبی کی فضیلت بدرجہا ذکرِ زبانی سے زیادہ ہے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے پر خصوصی فضل فرمانا چاہے اور اپنے حضور اسے خوش قسمت بندہ لکھ دے اور اس کو یہ توفیق دے کہ ہر وقت زبانی ذکر بھی کرتا رہے اور اسکا دل بھی اسی کے موافق ذکر میں شاغل رہے اور اسے زبانی ذکر سے قلبی ذکر کی طرف ترقی حاصل ہوجائے۔ یہاں تک کہ اگر زبان خاموش ہو پھر بھی دل خاموش نہ ہو، اسی کو ذکرِ کثیر کہا جاتا ہے۔

ذکر کی فضیلت میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ایک اور محقق و محدث حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کی ہے۔

عَنْ اَبِی الدَّرْدآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اَلا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ وَ اَزْکٰہَا عِنْدَ مَلیْککُمْ وَاَرْفَعِہَا فیْ دَرَجَاتِکُمْ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِّنْ اِنْفَاقِ الذَّہَبِ وَالْوَرْقِ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِّن اَنْ تَلْقُوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا اَعْنَاقِہُمْ وَیَضْرِبُوْا اَعْنَاقَکُمْ قَالُوْا بَلیٰ قَالَ ذِکْرُ اللہ
(مشکواۃ المصابیح صفحہ ۱۹۸)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے بہتر عمل کی خبر نہ دوں جو تمہارے رب کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہو، جو تمہارے اعمال میں سب سے بلند مرتبہ ہو، جو تمہارے سونا اور چاندی کے خیرات کرنے سے زیادہ اچھا عمل ہو، جو تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمنوں سے مقابلہ کرکے انہیں قتل کرو اور وہ تمہارے گردنوں پر وار کریں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
محدث کبیر حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اَلْمُرَادُ الذِّکْرُ الْقَلْبِیُّ فَاِنَّہٗ ھُوَ الَّذِیْ لَہُ الْمَنْزِلَۃُ الزَّائِدَۃُ عَلیٰ بَذْلِ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ لِاَنَّہ عَمَلُ نَفْسِیُّ وَفِعْلُ الْقَلْبِ الَّذِیْ ھُوَ اَشَقُّ مِنْ عَمَلِ الْجَوَارِحِ بَلْ ھُوَ الْجِہَادُ الْاَکْبَرُ
(مرقاۃ المفاتیح صفحہ نمبر ۲۲ جلد ثالث)

اس ذکر سے ذکر قلبی مراد ہے۔ یہی وہ ذکر ہے جس کا مرتبہ جان و مال خرچ کرنے سے بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ باطنی عمل ہے اور دل کا عمل ہے جو کہ دوسرے اعضاء کے اعمال سے نفس کے لیے زیادہ سخت ہے۔ بلکہ یہی جہاد اکبر ہے۔

04/01/2024

فضیلت سلسلہ عالیہ نقشبندیہ


اہلسنت کے تمام مسالک برحق ہیں۔ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور دوسرے طریقے، انکے مشائخ قابل قدر و قابل تعظیم ہیں۔ لیکن صوفیائے کرام کے دوسرے سلاسلِ طریقت سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کو کئی وجوہ سے فضیلت حاصل ہے۔

اول: اس سلسلہ کی ابتدا میں ذکر قلبی ہے، جس میں جذب ربانی ہے۔ جبکہ ذکر زبانی میں سلوک ہے۔ جذب اور سلوک دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ سلوک میں بندہ ذکر اذکار اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ جذب میں جو کہ ذکر قلبی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، خدا خود بندہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

مولانا عبدالرحمٰن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند
کہ برند از رہِ پنہاں بحرم قافلہ را

از دلِ سالک رہِ جاذبۂ صحبتِشاں
می برد وسوسۂ خلوت و فکر چلہ را

(حضرات نقشبند عجب قافلہ کے سالار ہیں کہ اپنے متعلقین کو پوشیدہ طریقہ سے بارگاہ الٰہی تک لیجاتے ہیں۔ انکی صحبت کی کشش سالک کے دل سے خلوت کے خیال اور چلہ کشی کے فکر کو ختم کردیتی ہے۔)

دوم: سلسلہ نقشبندیہ کی فضلیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اتباع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کی ترقی و کمال کا تمام تر انحصار اتباعِ سنت پر ہے اور قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق محبوبیت الٰہی کے مقام پر فائز ہونے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ۝ اے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بتائیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو اللہ تمہیں اپنا دوست بنائے گا۔

سوم: سلسلہ نقشبندیہ کے اقرب طرق یعنی خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا سب سے نزدیکی راستہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا وسیلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ ظاہر ہے وسیلہ جس قدر قوی ہوگا راستہ اتنی ہی جلدی اور آسانی سے طے ہوگا۔

چہارم: جہاں پر دوسرے طریقوں کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے اس طریقہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس طرح یہ طریقہ وصول الیٰ اللہ کا قریب ترین راستہ ہے۔ حضرت امام ربانی مجدد منور الف ثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ”مشائخ طریقہ نقشبندیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرار ہم ابتدائے سیر از عالم امر اختیار کردہ اند۔۔۔ تا۔۔ مندرج گشت“۔

ترجمہ: سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مشائخ نے سیر باطنی کی ابتدا عالم امر سے اختیار کی ہے، عالم خلق کو اسی کے ضمن میں طے کرلیتے ہیں۔ برخلاف دوسرے طریقوں کے مشائخ کے کہ وہ سیرکی ابتدا عالم خلق سے کرتے ہیں اور وہ عالم خلق طے کرلینے کے بعد ہی عالم امر میں قدم رکھتے اور مقام جذبہ میں پہنچتے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ طریقہ نقشبندیہ تمام طریقوں سے اقرب ہے اور یقینی طور پر دوسروں کی انتہا اسکی ابتدا میں ہے۔

اسی موضوع پر حضرت خواجہ احمد سعید فاروقی قدس سرہٗ لکھتے ہیں ”اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کی کمی ہوگئی ہے، اس لیے صوفیائے نقشبند ایسے طالب کو پہلے ذکر قلبی کا طریقہ سکھاتے ہیں اور بجائے ریاضات و مجاہدات شاقہ کے عبادات کا حکم فرماتے ہیں اور تمام حالات میں اعتدال قائم رکھتے ہیں اور ان نقشبندی صوفیائے کرام کی توجہات دوسروں کی کئی چلہ کش توجہات سے بہتر اور اعلیٰ ہوتی ہیں اور طالبوں کو سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور بدعۃ سے اجتناب کا حکم فرماتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے ان کے حق میں رخصت پر عمل تجویز نہیں فرماتے۔ اسی لیے ان بزرگوں نے ذکر خفی کو اپنا طریقہ اختیار فرمایا۔

Photos from Subhani Clothes's post 27/02/2023

❁﷽❁
Qalamqar (CQSN دسپص)
Summer Collection 2023

Fabric *Best Quality Lawn* 3pc

*Front Full Heavy Embroidered
*Neck Heavy Embroidered Patch
*Back Heavy Embroidered
*Bottom Heavy Embroidered Patch
*Sleeves Heavy Embroidered
*Trouser Plain
*Organza Heavy Embriodered Dupata

Wholesale Price

Telephone

Website