Umeed e sehar

Umeed e sehar

Share

سلیقے سے ہواوں میں خوشبو گھول دیتے ہے ۔۔
ابھی کچھ لوگ زندہ ہے جو اردو بول لیتے ہے ۔۔۔

13/12/2023

قصہ میرا سنو گـے تو جاتـی رہـے گـی نیند،،،
آرامِ چشم مـت رکھـو اس داستـاں سـے تم،،،

کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی،،،
آتـے نہیـں ہـو بـاز میـرے امتحـاں سـے تم 🙃 ❤️
"میر تقی میر"

09/08/2023

حاصل زندگی حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

یہ کیا نہیں، وہ ہوا نہیں، یہ ملا نہیں، وہ رہا نہیں

💔

26/06/2023

یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں

تجاوز کے بھی موسم میں ہم اپنی حد میں رہتے ہیں

بہت محتاط ہو کر سانس لینا معتبر ہو تم

ہمارا کیا ہے ہم تو خود ہی اپنی رد میں رہتے ہیں

سراب و آب کی یہ کشمکش بھی ختم ہی سمجھو

چلو موج صدا بن کر کسی گنبد میں رہتے ہیں

سروں کے بوجھ کو شانوں پہ رکھنا معجزہ بھی ہے

ہر اک پل ورنہ ہم بھی حلقۂ سرمد میں رہتے ہیں

23/06/2023

سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے

پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے

یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے

پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے

مکان و لا مکاں کے بیچ کیا ہے

جدا جس سے مکاں ہے لا مکاں سے

دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں

ہوا سنتا ہوں میں پیڑوں کی زباں سے

تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش

ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا

تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی

فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

20/06/2023

پھول کا شاخ پہ آنا بھی برا لگتا ہے

تو نہیں ہے تو زمانہ بھی برا لگتا ہے

اوب جاتا ہوں خموشی سے بھی کچھ دیر کے بعد

دیر تک شور مچانا بھی برا لگتا ہے

اتنا کھویا ہوا رہتا ہوں خیالوں میں ترے

پاس میرے ترا آنا بھی برا لگتا ہے

ذائقہ جسم کا آنکھوں میں سمٹ آیا ہے

اب تجھے ہاتھ لگانا بھی برا لگتا ہے

میں نے روتے ہوئے دیکھا ہے علی بابا کو

بعض اوقات خزانہ بھی برا لگتا ہے

اب بچھڑ جا کہ بہت دیر سے ہم ساتھ میں ہیں

پیٹ بھر جائے تو کھانا بھی برا لگتا ہے

20/06/2023

ملا ہے حسن تو اس حسن کی حفاظت کر

سنبھل کے چل تجھے سارا جہان دیکھتا ہے

کنیز ہو کوئی یا کوئی شاہزادی ہو

جو عشق کرتا ہے کب خاندان دیکھتا ہے

19/06/2023

جون ایلیا 💔

زمانے بھر کو اداس کر کے
خوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کے
بہت ہی دوری سے پاس کر کے
تمہیں یہ لگتا تھا
جانے دیں گے ؟
سبھی کو جا کے ہماری باتیں
بتاؤ گے اور
بتانے دیں گے ؟
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور
منانے دیں گے ؟
میری نظم کو نیلام کر کے
کماؤ گے اور
کمانے دیں گے ؟

تو جاناں سن لو
اذیتوں کا ترانہ سن لو

کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم
بھلے ہی دل سے نکال دو تم
کمال دو یا زوال دو تم
یا میری گندی مثال دو تم

میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا

بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟

میں اب زخم کو زبان دوں گا
میں اب اذیت کو شان دوں گا
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ

مزید سُن لو۔۔۔
او نفرتوں کے یزید سن لو

میں اب نظم کا سہارا لوں گا
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا

میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں

میں اب اذیت کا پیر ہوں جی
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی..

جون ایلیا

18/06/2023

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے

ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا
سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے

ہیں میرے ذات سے منسوب صد فسانہء عشق
اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے

خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں
خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے

مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار
تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے

خراش نغمہ سے سینہ چھِلا ہوا ہے مرا
فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے

دوا سے فائد مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے

زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب
سو جوفِ سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے

سرورِ مئے پہ بھی غالب رہا شعور مرا
کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے

غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

رہا میں شاہدِ تنہا، نشینِ مسندِ غم
اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے

07/06/2023

محبتوں کا نیا آسمان ڈھونڈتا ہوں
میں اپنے سر پہ کوئی سائبان ڈھونڈتا ہوں

ہوائے شہر بہاراں میں اس کے لہجے میں
ترا ۔یقین اور اپنا گمان ڈھونڈتا ہوں

میں اپنے خواب ہتھیلی پر لے کے پھرتا ہوں
سجا سکوں انہیں جس میں، دکان ڈھونڈتا ہوں

میں منحرف نہیں اپنے قبیلے والوں سے
انا پرست ہوں ، اپنا نشان ڈھونڈتا ہوں

ہوائے دربدری یوں اڑائے پھرتی ہے
میں اپنے شہر میں اپنا مکان ڈھونڈتا ہوں

مرا وجود زمانے میں ہے تو بس اتنا ہے
میں قصہ گو ہوں اور اک داستان ڈھونڈتا ہوں

06/06/2023

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے

میری غزلوں میں علامت کی طرح تو آئے

میں تجھے چھیڑ کے خاموش رہوں سب بولیں

باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی پہلو آئے

قرض ہے مجھ پہ بہت رات کی تنہائی کا

میرے کمرے میں کوئی چاند نہ جگنو آئے

لگ کے سوئی ہے کوئی رات مرے سینے سے

صبح ہو جائے کہ جذبات پہ قابو آئے

چاہتا ہوں کہ مری پیاس کا ماتم یوں ہو

پھر نہ اس دشت میں مجھ سا کوئی آہو آئے

اس کا پیکر کئی قسطوں میں چھپے ناول سا

کبھی چہرہ کبھی آنکھیں کبھی گیسو آئے.

06/06/2023

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا

مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو

مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا

میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں

اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

05/06/2023

جو بات سچ نہ ہو اسے کہتا نہیں ہوں مَیں
رستے میں لاکے چھوڑ دوں، ایسا نہیں ہوں مَیں

لازم ہے اعتماد مگر حسنِ دل کشا!
اِتنا نہ پاس آ کہ فرشتہ نہیں ہوں مَیں

تو کیوں نہ آیا میرے بلانے پہ ایک بار؟
جب تو مجھے بلاتا ہے، آتا نہیں ہوں مَیں ؟

کہتے تھے لوگ، لوگ تھے، لوگوں کی بات اور
تو نے بھی آج کہہ دیا اچھا نہیں ہوں مَیں

اپنا نہیں تو میرا ہی کچھ کر خیال عشق!
بازار میں نہ کھینچ، تماشہ نہیں ہوں مَیں

بھرتا نہیں مَیں آہ کہ ہے پاسِ آبرو
اور تو سمجھ رہا ہے تڑپتا نہیں ہوں مَیں

ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Srinagar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Gurez
Srinagar
246174