Umeed e sehar
سلیقے سے ہواوں میں خوشبو گھول دیتے ہے ۔۔
ابھی کچھ لوگ زندہ ہے جو اردو بول لیتے ہے ۔۔۔
قصہ میرا سنو گـے تو جاتـی رہـے گـی نیند،،،
آرامِ چشم مـت رکھـو اس داستـاں سـے تم،،،
کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی،،،
آتـے نہیـں ہـو بـاز میـرے امتحـاں سـے تم 🙃 ❤️
"میر تقی میر"
حاصل زندگی حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ کیا نہیں، وہ ہوا نہیں، یہ ملا نہیں، وہ رہا نہیں
💔
یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں
تجاوز کے بھی موسم میں ہم اپنی حد میں رہتے ہیں
بہت محتاط ہو کر سانس لینا معتبر ہو تم
ہمارا کیا ہے ہم تو خود ہی اپنی رد میں رہتے ہیں
سراب و آب کی یہ کشمکش بھی ختم ہی سمجھو
چلو موج صدا بن کر کسی گنبد میں رہتے ہیں
سروں کے بوجھ کو شانوں پہ رکھنا معجزہ بھی ہے
ہر اک پل ورنہ ہم بھی حلقۂ سرمد میں رہتے ہیں
سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے
پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے
یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے
مکان و لا مکاں کے بیچ کیا ہے
جدا جس سے مکاں ہے لا مکاں سے
دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں میں پیڑوں کی زباں سے
تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے
زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے
فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے
پھول کا شاخ پہ آنا بھی برا لگتا ہے
تو نہیں ہے تو زمانہ بھی برا لگتا ہے
اوب جاتا ہوں خموشی سے بھی کچھ دیر کے بعد
دیر تک شور مچانا بھی برا لگتا ہے
اتنا کھویا ہوا رہتا ہوں خیالوں میں ترے
پاس میرے ترا آنا بھی برا لگتا ہے
ذائقہ جسم کا آنکھوں میں سمٹ آیا ہے
اب تجھے ہاتھ لگانا بھی برا لگتا ہے
میں نے روتے ہوئے دیکھا ہے علی بابا کو
بعض اوقات خزانہ بھی برا لگتا ہے
اب بچھڑ جا کہ بہت دیر سے ہم ساتھ میں ہیں
پیٹ بھر جائے تو کھانا بھی برا لگتا ہے
ملا ہے حسن تو اس حسن کی حفاظت کر
سنبھل کے چل تجھے سارا جہان دیکھتا ہے
کنیز ہو کوئی یا کوئی شاہزادی ہو
جو عشق کرتا ہے کب خاندان دیکھتا ہے
جون ایلیا 💔
زمانے بھر کو اداس کر کے
خوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کے
بہت ہی دوری سے پاس کر کے
تمہیں یہ لگتا تھا
جانے دیں گے ؟
سبھی کو جا کے ہماری باتیں
بتاؤ گے اور
بتانے دیں گے ؟
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور
منانے دیں گے ؟
میری نظم کو نیلام کر کے
کماؤ گے اور
کمانے دیں گے ؟
تو جاناں سن لو
اذیتوں کا ترانہ سن لو
کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم
بھلے ہی دل سے نکال دو تم
کمال دو یا زوال دو تم
یا میری گندی مثال دو تم
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا
بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟
میں اب زخم کو زبان دوں گا
میں اب اذیت کو شان دوں گا
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ
مزید سُن لو۔۔۔
او نفرتوں کے یزید سن لو
میں اب نظم کا سہارا لوں گا
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا
میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں
میں اب اذیت کا پیر ہوں جی
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی..
جون ایلیا
گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے
ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا
سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
ہیں میرے ذات سے منسوب صد فسانہء عشق
اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے
خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں
خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے
مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار
تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
خراش نغمہ سے سینہ چھِلا ہوا ہے مرا
فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے
دوا سے فائد مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب
سو جوفِ سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے
سرورِ مئے پہ بھی غالب رہا شعور مرا
کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے
غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے
رہا میں شاہدِ تنہا، نشینِ مسندِ غم
اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے
محبتوں کا نیا آسمان ڈھونڈتا ہوں
میں اپنے سر پہ کوئی سائبان ڈھونڈتا ہوں
ہوائے شہر بہاراں میں اس کے لہجے میں
ترا ۔یقین اور اپنا گمان ڈھونڈتا ہوں
میں اپنے خواب ہتھیلی پر لے کے پھرتا ہوں
سجا سکوں انہیں جس میں، دکان ڈھونڈتا ہوں
میں منحرف نہیں اپنے قبیلے والوں سے
انا پرست ہوں ، اپنا نشان ڈھونڈتا ہوں
ہوائے دربدری یوں اڑائے پھرتی ہے
میں اپنے شہر میں اپنا مکان ڈھونڈتا ہوں
مرا وجود زمانے میں ہے تو بس اتنا ہے
میں قصہ گو ہوں اور اک داستان ڈھونڈتا ہوں
تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے
میری غزلوں میں علامت کی طرح تو آئے
میں تجھے چھیڑ کے خاموش رہوں سب بولیں
باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی پہلو آئے
قرض ہے مجھ پہ بہت رات کی تنہائی کا
میرے کمرے میں کوئی چاند نہ جگنو آئے
لگ کے سوئی ہے کوئی رات مرے سینے سے
صبح ہو جائے کہ جذبات پہ قابو آئے
چاہتا ہوں کہ مری پیاس کا ماتم یوں ہو
پھر نہ اس دشت میں مجھ سا کوئی آہو آئے
اس کا پیکر کئی قسطوں میں چھپے ناول سا
کبھی چہرہ کبھی آنکھیں کبھی گیسو آئے.
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا
نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو
مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں
اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
جو بات سچ نہ ہو اسے کہتا نہیں ہوں مَیں
رستے میں لاکے چھوڑ دوں، ایسا نہیں ہوں مَیں
لازم ہے اعتماد مگر حسنِ دل کشا!
اِتنا نہ پاس آ کہ فرشتہ نہیں ہوں مَیں
تو کیوں نہ آیا میرے بلانے پہ ایک بار؟
جب تو مجھے بلاتا ہے، آتا نہیں ہوں مَیں ؟
کہتے تھے لوگ، لوگ تھے، لوگوں کی بات اور
تو نے بھی آج کہہ دیا اچھا نہیں ہوں مَیں
اپنا نہیں تو میرا ہی کچھ کر خیال عشق!
بازار میں نہ کھینچ، تماشہ نہیں ہوں مَیں
بھرتا نہیں مَیں آہ کہ ہے پاسِ آبرو
اور تو سمجھ رہا ہے تڑپتا نہیں ہوں مَیں
ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Srinagar
246174