Wowwords

Wowwords

Partager

تل وطنیں دی جاہ

03/06/2026

تلاش وارثان!!! یہ بچہ جو اپنا نام حمزہ ولد آصف بتاتا ہے اور گھر کا پتہ بتانے سے قاصر ہے۔ سال 2022 میں شاہدرہ موڑ، لاہور سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ تب سے اسکے گھر والوں کی تلاش ہے۔ اگر آپ اس بچے کو پہچانتے ہیں تو برائے مہربانی 15 یا 03090000015 پر رابطہ کریں۔ جزاک اللہ
Case id: 319883481
#لاپتہ

Photos from Wowwords's post 03/06/2026

"پیوند": پامال راستوں سے الگ ایک جرات مندانہ آواز

تجزیہ : محسن فگار
————————

​معاصر اردو غزل کے موجودہ منظرنامے پر جہاں زیادہ تر شہرتیں گروہ بندیوں، جوڑ توڑ اور باہمی تعلقات کے سہارے بیساکھیوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہیں، وہاں شاہ زیب کا اپنی تخلیقی تنہائی میں بیٹھ کر صرف اپنے متن پر بھروسا کرنا ایک جرات مندانہ اور باغیانہ فیصلہ ہے۔ ان کا یہ رویہ سستے پروپیگنڈے یا سستی واہ واہ کا حصہ بننے کے بجائے ان کی شاعری کو ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ اور صوفیانہ گہرائی عطا کرتا ہے۔ سانجھ پبلیکیشنز، لاہور سے شائع ہونے والا ان کا شعری مجموعہ "پیوند" روایتی غزل کے پامال اور بنے بنائے ڈھانچوں سے انحراف کی ایک خوبصورت اور تازہ مثال ہے۔
​شاہ زیب کی غزل کی سب سے بڑی خوبی ان کا اچھوتا زاویۂ نگاہ اور بالکل نئی شعری امیجری ہے۔ وہ گھسے پٹے اور روایتی استعارات پر تکیہ نہیں کرتے، بلکہ کائناتی اور انسانی رشتوں کو بالکل ایک نئے رخ سے دیکھتے ہیں۔ یہ شعر دیکھیے:

​جب زمیں نے شجر اگایا تھا
پہلے انسان چہچہایا تھا

​یہاں انسانی وجود اور فطرت کے ازلی تعلق کو جس سادگی اور معصومیت سے باندھا گیا ہے، وہ قاری کو چونکا دیتا ہے۔ پرندوں کی صفت یعنی "چہچہانے" کو انسان سے منسوب کر کے شاعر نے تخلیقِ کائنات کا ایک ایسا اچھوتا اور فطرتی منظرنامہ سامنے رکھا ہے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
​ان کے ہاں لفظ محض کانوں کو بھلے لگنے والے صوتی تاثر کا نام نہیں، بلکہ وہ حسیات کو جگاتے ہیں۔ وہ تجرید کو ایک ٹھوس احساس میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں:

​پکار کر میں اُسے اپنے ہونٹ چکھتا تھا
عجیب ذائقے اُس نام سے نکلتے تھے....!

​کسی نام کے صوتی اثر کو "ذائقے" سے جوڑنا عام سطح کے شاعر کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں محبت صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ ایک لمسی اور نامیاتی تجربہ بن جاتی ہے جسے چکھا جا سکتا ہے۔
​آج کے دور کا ایک بڑا المیہ ہجرت، بیگانگی اور شہروں کا سرد اور پتھریلا رویہ ہے۔ شاہ زیب نے اس مضافاتی درد اور سماجی تعصب کو اپنی غزل میں بڑی سچائی اور دردمندی سے جگہ دی ہے:

​یوں مرا شہر تعصب سے مجھے دیکھتا ہے
رہنے آیا ہوں یہاں جیسے مضافات سے میں

​یہ شعر اس جدید انسان کا نوحہ ہے جو اپنے ہی وطن یا بڑے شہروں کی بھیڑ میں خود کو اجنبی اور دیوار سے لگا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس میں کوئی شور شرابا نہیں، بلکہ ایک دھیما مگر گہرا اور کاٹ دار احتجاج چھپا ہے۔
​شاہ زیب کے ہاں اداسی کوئی عارضی کیفیت، فیشن یا وقتی موڈ نہیں ہے، بلکہ وہ اسے ایک کائناتی سچائی کے طور پر برتتے ہیں:

​کسی خیال کی افسردگی ہے یہ دنیا
یہ سلسلہ ہے کسی خواب کی اداسی کا

​ان کے ہاں دکھ کوئی ایسی چیز نہیں جسے سرِ بازار تماشا بنا کر ہمدردیاں سمیٹی جائیں، بلکہ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جسے وہ دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھتے ہیں:

​دُکھوں سے گھر کی تجوری کو بھر دیا لیکن
کسی کو میرا کمایا نظر نہیں آتا

​"پیوند" کے کلام میں روشنی اور اندھیرے، نیز اندر اور باہر کے تضادات کو آمنے سامنے رکھ کر کمال کے اشعار نکالے گئے ہیں۔ یہ امید اور مایوسی کی ایک خوبصورت کشمکش ہے:
​برآمد ہوں کسی دن دونوں اپنے اپنے حجرے سے
اندھیرے سے میں نکلوں ، روشنی سے تُو نکل آئے
​اسی طرح منافقت اور سچائی کو بے نقاب کرتا ہوا یہ رنگ دیکھیے:

​ہم نے ڈھانپا ہے ان کو چہروں سے
آئنے بے لباس تھے سارے

​ان کی صحبت میں پیاس لگتی تھی
دوست خالی گلاس تھے سارے

​یہاں "خالی گلاس" کا استعارہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بظاہر مخلص دکھائی دیتے ہیں لیکن اندر سے اتنے خالی ہیں کہ کسی کی پیاس بجھانا تو دور، ڈھارس بندھانے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔
​کچھ اشعار تو سیدھے وجودی سوالات (Existential Questions) پر ضرب لگاتے ہیں اور قاری کو ایک گہری سوچ کے گرداب میں مبتلا کر دیتے ہیں:

​سارے انسان سو رہے تھے زیب
جاگ کر بن گیا خدا کوئی

​یہ شعر تصوف اور فلسفے کی اس آخری حد پر ہے جہاں بیداری انسان کو کائناتی سچائیوں کے روبرو لا کھڑا کرتی ہے۔
​کتاب کا نام "پیوند" اپنے اندر کئی جہتیں اور گہرے اشارے رکھتا ہے—یہ زمین اور آسمان کا، مادی دنیا اور خوابوں کا، یا شاید انسان کے ٹوٹے ہوئے وجود اور اس کی روح کا پیوند ہے۔ شاہ زیب کی غزل روایتی اوزان اور بحروں کی سخت پابندی کرتے ہوئے بھی مروجہ اور گھسے پٹے مضامین سے یکسر مختلف اور تازہ ہے۔ ان کا لہجہ دھیما، گرفت مضبوط اور فکر گہری ہے۔ مخلص اور جاندار متن ہی دیر تک زندہ رہتے ہیں اور یہ کتاب معاصر اردو غزل کی تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کا پورا دم خم رکھتی ہے۔ شاہ زیب اور سانجھ پبلیکیشنز اس خوبصورت اور یادگار پیشکش پر دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
Shah Zaib
Tauqir Reza

03/06/2026

اسّاں انہاں شہریں وچو بولے ہسے رفعت

جتھاں لوکیں آپ خدا کوں ڈٹھا ہویا ھے پیا

31/05/2026
Vous voulez que votre organisation soit Service Du Gouvernement la plus cotée à Paris ?
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Adresse

Paris