Saraiki Rang
Siraiki Adab,culture
19/05/2026
کینسر ہسپتال
ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال
آج میری نظر سے حذیفہ رحمان کی ایک ویڈیو گزری…
اور سچ یہ ہے کہ اسے آخر تک دیکھنا پڑا، کیونکہ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں بلکہ ہمارے وسیب کے ایک سلگتے ہوئے مسئلے کی آواز تھی۔
ویسے دوستوں کی صلح کے حوالے سے کمٹمنٹ پر اصولی اختلافات کی وجہ سے ہماری بول چال بند ہے اور سخت “کُٹی” بھی چل رہی ہے۔😉
لیکن جہاں بات عوام، مریضوں اور وسیب کے مستقبل کی ہو وہاں ذاتی اختلافات کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
میرے نزدیک ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال میں فوری طور پر کینسر یونٹ یا کینسر ہسپتال کا آغاز ایک نہایت دانشمندانہ، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل ماڈل ہو سکتا ہے۔
کیونکہ وہاں پہلے سے موجود شعبہ جات، ڈاکٹرز، لیبارٹریز اور طبی سہولیات کم وقت میں اس منصوبے کو فعال بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
البتہ بعد میں محمود قادر خان لغاری کی کششوں اور مریم نواز شریف صاحبہ کے اعلان کے مطابق الگ بلڈنگ یا مکمل کینسر ہسپتال بن جائے تو یہ خوش آئند ہوگا، مگر صرف اس بنیاد پر ابتدائی کامیاب اور فنکشنل ماڈل کو رد کرنا دانشمندی نہیں۔
وسیب کے غریب مریض لاہور ،ملتان اور بڑے شہروں کے دھکے کھاتے کھاتے تھک چکے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ علاج ان کے قریب لایا جائے۔
ایک اور بات جو بطور پبلک ہیلتھ پروفیشنل کینسر کے روک تھام کے لیئے فوری طور پر واٹر پیوری فیکیشن پلانٹس کا علاقے میں جال بچھایا جائے اور فوڈ کوالٹی پر ہنگامی بنیادی پر کام کیا جائے تو نئے آنے والے کیسز میں 90فیصد کمی آجائے گی۔
یادرہے پوری دنیا میں کلینکل کی بجائے پریونشنل ماڈل سب سے زیادہ کامیاب اور حقیقی راستہ ہے۔جتنا خرچہ علاج پر آتا ہے اس کا چوتھائی روک تھام پر آتا ہے بلکہ اس سے بھی کم۔حکومت کو ڈی جی خان ڈویژن بالخصوص اور سرائیکی خطے میں باالعموم اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔
اگر نیت، پلاننگ اور تسلسل ہو تو یہی ماڈل مستقبل میں پورے جنوبی پنجاب کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور سہیل ظفر چھٹہ صاحب کی توجہ کے لیئے
16/05/2026
مریم نوازشریف کے لیئے جرائم کے خلاف اور بچی کے تحفظ کا ایک ٹیسٹ کیس
جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا جرائم سکینڈل بے نقاب
اغوا ،پولیس رابطے،لیک کالز اور دبئی کنکشن نے تہلکہ مچا دیا،آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
مہوش اغوا کیس
اگر ایک کم عمر بچی عدالت میں بیان دے کہ “مجھے اغوا کیا گیا”، عدالت اسے والدہ کے ساتھ بھیج دے، اور پھر اسے دوبارہ اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا جائے… تو سوال صرف ایک کیس کا نہیں بلکہ پوری پنجاب حکومت کے نظامِ انصاف کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔
ذرائع اور سامنے آنے والے کال ریکارڈنگز کے مطابق اس کیس میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اور پولیس کے درمیان روابط بے نقاب ہوئے، بلکہ مبینہ طور پر رشوت اور سہولت کاری کے اعترافات بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی الزام سامنے آیا کہ ایک خاتون پولیس افسر نے مسلسل رابطوں کے ذریعے بچی کو مینج کیا، اور بیانات تبدیل کروانے میں کردار ادا کیا، جبکہ نادرہ ریکارڈ کے مطابق بچی اس وقت انڈرایج تھی۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اکرم حجانہ ، جسے ماضی میں سی سی ڈی لاہور گرفتار کر چکی تھی، مبینہ طور پر اسے دبئی بدر ہونے کے لیئے چھوڑ دیا گیا تھا وہی دوبارہ دبئی سے نیٹ ورک کو ہینڈل کرتا رہا ، اور اب اس کی لیک ہونے والی کالز بھی ریکارڈ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
فون کالز میں ڈی جی خان کے بعض پولیس افسران کو رشوت فراہم کرنے اور مزید رقم دینے کی ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔
اس وقت مرکزی ملزم شاکر حجانہ قانون کی گرفت میں ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اس پر سنگین مقدمات اور بھاری مقدار میں منشیات برآمدگی کا کیس بھی درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یادرہے جس سی سی ڈی نے ریکارڈ یافتہ مجرم اور کئی سنگین وارداتوں میں اشتہاری اکرم حجانہ کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے دبئی بھیج دیا تھا وہ اب جنوبی پنجاب خصوصاً ڈویژن ڈی جی خان میں قتل اور جرائم کی بزریعہ فون کاروائیاں کرا رہا ہے اس کی لیک فون کالز اب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
ایک اور اہم بات یہی اکرم حجانہ اپنے کرائے کے قاتل کو یہ بھی اعترافی کال کر رہا ہے کہ ڈی جی خان میں تو میں CCD کو مینج کر سکتا ہوں لیکن اگر باہر کی سی سی ڈی کہیں سے آگئی تو میرے بس سے باہر ہے(اس میں کوئی شک نہیں ڈی جی خان میں اس کے سہولت کار اور نرم گوشہ رکھنے والے دوست موجود ہیں)
اب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے ایوانوں میں بھی گونج رہا ہے۔
دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ ڈی جی خان پولیس ان جرائم پیشہ اور ریکارڈ یافتہ مجرموں کو کب تک اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہے
عوام مطالبہ کرتی ہے کہ:
• تمام لیک کالز کی فرانزک تحقیقات ہوں۔
• ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے۔
• متاثرہ بچی اور خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
• سی سی ڈی اور اعلیٰ ادارے دہری نگرانی کے ساتھ نیٹ ورک کی تحقیقات کریں۔
اگر اس کیس میں بھی انصاف نہ ہوا تو عوام کا قانون پر اعتماد مزید مجروح ہوگا۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
ہنستا چہرہ، اندر سے ٹوٹا نوجوان
03/05/2026
اب صحافت کی حالت ایک اشتہاری جیسی
یہ کوئی اشتہار نہیں
لگتا ہے یہ تھانے کے اندر “مک مکا سروس” کا سٹکر ہے۔
ایس ایچ او کا کمرہ ہو،تفتیشی روم ہو یا تھانے کا بورڈ
ہر جگہ ایک ہی پیغام:
“اشتہارات کے لیے رابطہ کریں”
اوپر سے “ایم اے جرنلزم” بھی ساتھ لگا ہے
گویا ڈگری نہیں، سیٹنگ کا لائسنس ہو۔
حالانکہ رپورٹر کا اشتہار سے کیا کام؟
اور کمال دیکھیں
پولیس نے بھی خاموشی سے اپنے تھانے کو
“ماسی ویڑہ” بننے دیا ہوا ہے۔
مجال ہے کوئی ان اشتہاری صحافیوں سے پوچھے بھائی دن رات آپ یہاں پائے جاتے ہو یہاں تمہارا کیا کام؟🤔
یادرہے اس صحافی پر سائبر کرائم ملتان اور اسلام آباد میں خطرناک سائبر کرائم کے تحت انکوائری جاری ہے۔
03/05/2026
🌸✨زبان خلق
قابلِ رشک پولیس آفیسر — ابرار خان برمانی
کچھ لوگ عہدے سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں…
اور ابرار خان برمانی انہی میں سے ایک ہیں۔
ابتداء میں ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، مگر ایک معاملے میں جب ان کی صلاحیت، لوگوں سے روابط اور اندازِ گفتگو سامنے آیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، شریف النفس اور غیر معمولی سوچ رکھنے والے پولیس آفیسر ہیں۔
براہِ راست گفتگو نے ایک اور حقیقت واضح کی—
یہ صرف ایک آفیسر نہیں، بلکہ ایک سوچ ہیں۔
میرٹ، دیانت اور انسانیت ان کی پہچان ہے۔
ان کی سروس کا ریکارڈ خود گواہی دیتا ہے کہ
روایتی “تھانیداری” سے ان کا کوئی تعلق نہیں…
یہ نظام بدلنے والے لوگوں میں سے ہیں، نہ کہ اس کا حصہ بننے والے۔
ایسے افسر کم ملتے ہیں جو
اختیار کو طاقت نہیں، ذمہ داری سمجھیں
اور عوام کو کیس نہیں، انسان سمجھیں۔
ایسے لوگ واقعی قابلِ رشک بھی ہوتے ہیں اور قابلِ فخر بھی۔
سلام ہے ابرار خان برمانی جیسے انسان دوست آفیسر کو۔
لہذا "ڈھینگریوں سے بچ کے،ڈھینگریوں سے بچا کے"
سمجھ تاں گئے ہوسو
کھری گالھ ڈاکٹر عثمان دے نال
03/05/2026
ذرا سوچیئے🤔
آزادئ صحافت کا عالمی دن — اور ڈی جی خان کا سوال
آزادئ صحافت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صحافت مادر پدر آزادی بن جائے۔۔۔
اور یہ بھی سچ ہے کہ صحافی شترِ بے مہار نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس حقیقت کے ساتھ ایک اور تلخ سچ بھی جڑا ہوا ہے۔۔
ہمارے معاشرے میں صحافت کے نام پر ایک شور ہے
جہاں کچھ لوگ قلم کو ذمہ داری نہیں، ہتھیار بنا بیٹھے ہیں۔۔۔
جہاں بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور “ڈمی صحافت” نے اصل صحافت کو دھندلا دیا ہے۔
مگر سوال یہ ہے…
کیا اس کا حل یہ ہے کہ اصل، بااصول اور خوددار صحافیوں کو ہی کچل دیا جائے؟
یہاں المیہ شروع ہوتا ہے۔۔۔
ایک طرف وہ لوگ آزاد ہیں جو صحافت کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں
اور دوسری طرف وہ لوگ مقدمات میں جکڑے جا رہے ہیں جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں
“ہیں سنگ و خشت مقید، سگ آزاد”
یہ صرف فارسی کی ایک مثال نہیں بلکہ
یہ آج کے حالات کا آئینہ ہے۔
شیر افگن بزدار اور ملک شاہد اعوان جیسے نام۔۔۔۔
صرف افراد نہیں، ایک سوچ کی نمائندگی ہیں
وہ سوچ جو سوال کرتی ہے، ثبوت کے ساتھ بات کرتی ہے، اور جواب مانگتی ہے۔
اگر کوئی صحافی ثبوت کے ساتھ بات کرے، مخالف مؤقف بھی لے،
اور پھر بھی اس کے گھر کی چادر اور چار دیواری پامال کی جائے…
تو یہ صرف ایک فرد پر ظلم نہیں
یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال ہے۔
یاد رکھیں…
۔۔۔صحافت اگر دب جائے تو سچ دفن ہو جاتا ہے
۔۔۔اور جب سچ دفن ہو جائے تو انصاف اندھا نہیں، بے بس ہو جاتا ہے
ڈی جی خان کی انتظامیہ اور پولیس سے آج، اسی عالمی دن کے موقع پر ایک سنجیدہ اور مخلصانہ گزارش ہے:
✔️ بااصول صحافیوں پر قائم مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لیں
✔️ جہاں زیادتی ہوئی ہے، وہاں تلافی کریں
✔️ اور یہ پیغام دیں کہ ریاست طاقتور کے ساتھ نہیں، سچ کے ساتھ کھڑی ہے
کیونکہ…
عزتِ نفس رکھنے والے لوگ دشمن نہیں ہوتے،
وہی اصل سرمایہ ہوتے ہیں—معاشرے کا بھی، اور ریاست کا بھی۔
آج اگر ہم نے سچ بولنے والوں کو بچا لیا…
تو کل ہمیں اپنے بچوں کو سچ سکھانے میں شرمندگی نہیں ہوگی۔
— ڈاکٹر محمد عثمان خان،اسلام آباد
29/04/2026
سوشل میڈیا کا غیر قانونی استعمال
اسلام آباد: کوٹ چھٹہ کے تین خود ساختہ سوشل میڈیا صحافی قانون کی زد میں
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اسلام آباد نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا۔
ذرائع کے مطابق خطرناک نوعیت کے شواہد ادارے کو فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال اور ویریفیکیشن کے بعد متعلقہ ادارے نے مزید کارروائی شروع کر دی ہے
صحافت اور سائبر کرئم
27/04/2026
With کھری ڳالھ – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Dubai